محسن نقوی کا ’نظام ڈھے چکا ہے‘ کے بیان پر ن لیگ کے صحافی و اینکرز برہم
پاکستان میں صحافی سے ٹی وی چینلز کے مالک اور پھر ملک کے سب سے اہم اور طاقتور عہدیدار بن جانے والے محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کے ڈھے جانے والے موجودہ نظام کا حل نئے صوبے ہیں۔
اسلام آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب کے آغاز پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’آج مجھے تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی۔‘
اُن کی اس ’تھوڑی سی سیاسی تقریر‘ نے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا سیل کو اچانک سرگرم کر دیا ہے اور پارٹی کے ہمدرد صحافیوں اور ٹی وی اینکرز نے بھی وزیر داخلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
طویل عرصے سے جنگ گروپ سے وابستہ انصار عباسی نے محسن نقوی کی تقریر کے فوری بعد ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’ویسے پوچھنا تھا کہ کیا پاکستان کرکٹ کا سسٹم ٹھیک ہو چکا یا اس کے لیے بھی 20 صوبے ضروری ہیں۔‘
اس کے تین گھنٹے بعد انہوں نے ایک اور پوسٹ میں محسن نقوی کی ٹی وی سکرین پر دکھائی گئی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ونڈر بوائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی تقریر کے ایک حصے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، ان کے الفاظ تھے کہ ’جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے (ڈھے چکا ہے)‘، اس کے بعد بظاہر اس کے حل کے طور پر پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دے لیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت جب اپنا بجٹ بناتی ہے تو خسارے کا بناتی ہے، ’اس میں یہ بات کی جاتی ہے کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے، تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں کہ اس کو ٹھیک کیا جائے۔‘
ن لیگ کے سوشل میڈیا سے وابستہ بعض اکاؤنٹس نے اینکر ابصار عالم کی گزشتہ ماہ کی ایک ویڈیو اس کیپشن کے ساتھ شیئر کی ہے کہ ’کرکٹ کا ستیاناس، بلوچستان کا ستیاناس، کشمیر کا ستیاناس، اسلام آباد کا ستیاناس، خیبرپختونخوا کا ستیاناس وزیر داخلہ نے کر دیا ہے۔‘
اس ویڈیو کلپ کے ساتھ مزید لکھا گیا ہے کہ ’بلوچستان میں لاشیں گر رہی تھی موصوف نیویارک میں وزیر خارجہ بن کر گھوم رہے تھے منہ نہ کھلوائیں تو بہتر ہے استعفی د،و گھر جاؤ۔‘

