اہم

بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت کی برسوں سے نشاندہی کر رہے ہیں: ترجمان افواجِ پاکستان

جولائی 31, 2026

بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت کی برسوں سے نشاندہی کر رہے ہیں: ترجمان افواجِ پاکستان

پاکستان کی افواج کے ترجمان محکمے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ وہ ملک میں‌ بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت کی برسوں سے نشاندہی کر رہے ہیں۔

جمعے کو پریس بریفنگ کے دوران جب اُن سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بیان پر سوالات پوچھے گئے تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گڈ گورننس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کو درپیش متعدد مسائل کا حل مؤثر حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم انہوں‌ نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اس معاملے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے اور وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورننس کا عمل جمود کا شکار نہیں رہ سکتا کیونکہ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، آبادی اور ریاستی ضروریات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کی خواہشات ہی سب سے اہم ہیں اور گڈ گورننس یا انتظامی اصلاحات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام سیاسی اور انتظامی معاملات کا راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی، مدارس سے متعلق اصلاحات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات بھی بہتر حکمرانی کا حصہ ہیں۔

’تاہم گڈ گورننس کیسے لانی ہے، کون سی اصلاحات کرنی ہیں اور کس سمت جانا ہے، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً چار سے پانچ کروڑ تھی اور چار صوبے تھے، جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ گڈ گورننس کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام یا دیگر انتظامی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے سیاسی جماعتوں، منتخب قیادت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونے چاہییں۔ ان کے بقول یہ طے کرنا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے کس نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسے بیانات حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارگل سمیت مختلف محاذوں پر جانیں قربان کرنے والے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا مناسب نہیں۔

انھوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسی گفتگو غیر ارادی طور پر انڈین بیانیے کو تقویت دیتی ہے، جس سے پاکستان کے مؤقف اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے بارے میں ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول فوجی جوانوں اور عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے کے بجائے قومی معاملات پر واضح اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا جانا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو ان کے درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے