اہم

جدید دنیا کا حیرت انگیز واقعہ، ’فیک نیوز‘ پر 60 ہزار افراد نے سرحد عبور کر دی

جولائی 31, 2026

جدید دنیا کا حیرت انگیز واقعہ، ’فیک نیوز‘ پر 60 ہزار افراد نے سرحد عبور کر دی

سپین اور مراکش کے درمیان سرحد کو لگ بھگ 60 ہزار افراد نے ایک دن میں غیرقانونی طور پر عبور کیا جس کی ویڈیوز نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے اور ایکس کے مالک ایلن مسک نے ویڈیو شیئر کر کے ان افراد کو زومبیز فلموں کے سین سے ملایا ہے۔

مراکش سے غیرقانونی طور پر جو لوگ سپین میں داخل ہوئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ سیوٹا کا یہ جزیزہ نما علاقہ زمینی طور پر براعظم افریقہ میں واقع ہے لیکن اس کو یورپ کا حصہ قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ اس پر سپین کی عمل داری ہے، مراکش اس کو مقبوضہ علاقہ قرار دے کر اپنی زمین سمجھتا ہے۔

سیوٹا کے اس جزیرہ نما خطےکی حکومت کے اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں میں 60,000 افراد شہر میں داخل ہوئے۔

ہسپانوی حکومت نے تصدیق کی کہ سرحد کراسنگ میں 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بعد ازاں سپین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اب تک 48,300 افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں۔

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سیوٹا کا دورہ کیا،اور موجودہ صورتحال کو ‘غیر متوقع’ قرار دیا۔

بڑے پیمانے پر اس غیرقانونی سرحدی کراسنگ نے یورپ میں صدمے اور تقسیم کو جنم دیا ہے جہاں پہلے ہی انتہائی دائیں بازو کے سفیدفام لوگ تارکین وطن کو واپس اُن کے ملکوں کو بھیجنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

اس دوران اٹلی نے شینگن سکیم کے تحت سپین کے ساتھ اپنے سرحدی معاہدہ ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے تاکہ وہاں سے غیرقانونی تارکین روم کی طرف سفر نہ کر سکیں۔

افریقی ملک مراکش کے شمال میں ایک اور ہسپانوی خود مختار علاقے میلیلا کی بھی یورپی یونین کی زمینی سرحد ہے۔

سیوٹا اور ملیلا کے یہ دونوں خودمختار علاقے سپین کے قبضے میں ہیں اور مراکش اس کو تسلیم نہیں کرتا۔

کچھ تجزیہ کاروں نے سوال کیا ہے کہ کیا مراکش کے حکام نے اتنے بڑے پیمانے پر اپنے شہریوں کی غیرقانونی سرحد پار کرنے پر آنکھیں بند کر دی تھیں۔

تجزیہ کار پچھلے مواقع کو یاد کرتے ہیں جب مراکش کی حکومت پر غیرقانونی تارکین کی ہجرت کو سیاسی فائدہ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

غیرقانونی تارکین کے سرحد پار کرنے کا آخری بڑا واقعہ مئی 2021 میں ہوا، جب مراکش کے حکام سرحدی کنٹرول میں نرمی کرتے نظر آئے۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جسے وسیع پیمانے پر سپین کی جانب سے مغربی صحارا کی آزادی کے قائل ایک رہنما کی میزبانی کے انتقام کے طور پر تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی مغربی صحارا میں ایک گروپ مراکش سے آزادی چاہتا ہے اور سپین نے اس گروپ کے رہنما کی سنہ 2021 کے دورے میں میزبانی کی تھی جس کے ردعمل میں مراکش نے بارڈر کنٹرول نرم کر دیا تھا اور ہزاروں افراد غیرقانونی طورپر سپین کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔

مراکش سیوٹا اور دوسرے ہسپانوی انکلیو، میلیلا پر سپین کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتا، یہ دونوں علاقے کئی صدیوں سے ہسپانوی ہاتھوں میں ہیں – اور مراکش ان کو "مقبوضہ” خطوں کی حیثیت دیتا ہے۔

میڈرڈ اور رباط کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں اس وقت بہتر ہوئے ہیں جب سپین نے مغربی صحارا کے لیے مراکش کے خود مختاری کے منصوبے کی حمایت کی تھی، اس علاقے کا دعویٰ مراکش نے کیا تھا لیکن الجزائر کے حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ کی جانب سے مغربی صحارا کو ایک آزاد ریاست کے طور پر بھی شناخت دینے کی کوشش کی گئی تھی۔

تاہم میڈرڈ میں سنٹر فار کنٹیمپریری عرب سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہائیزم امیرہ فرنانڈیز نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ اجولائی کے شروع میں سپین کے وزیراعظم کے الجزائر کے دورے کو “مراکش میں مثبت انداز میں نہیں دیکھا گیا”۔

سپین کی کانگریس نے بھی حال ہی میں مغربی صحارا سے آنے والے افراد کی اولاد کو ہسپانوی شہریت دینے کے ایک بل کی منظوری دی، ایک ایسا اقدام جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مراکش کو ناراض کیا ہے۔

امیرہ فرنانڈیز نے کہا کہ "اس سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کوئی بہت ہی لطیف پیغام بھیجیں۔”

مراکش کی حکومت نے کراسنگ پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی متعدد درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

یورپی یونین سے تعلقات پر مراکش کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ لاحسن حداد ان باتوں کو مسترد کرتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں غیرقانونی تارکین وطن کے یورپی علاقے میں گھس جانے کے پیچھے مراکش کی کوئی سیاست ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ سب اچانک اس وقت ہوا جب سپین کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں غلط خبر پھیلی۔ سپین کے حکام نے بھی کہا تھا کہ اتنی بڑی تعداد غیرقانونی طور پر سرحد پار کر کے آنے کے پیچھے فیک نیوز تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے