پارلیمنٹ کی کمیٹی نے نجی نیوز چینل کے بیورو چیف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا کیوں کہا؟
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے نجی نیوز چینل اے بی این (اوصاف گروپ) پر نشر کی گئی ایک خبر کا سخت نوٹس لیا ہے۔
یہ ذیلی کمیٹی سرحدی سکیورٹی کے طریقہ کار، سمگلنگ کے نیٹ ورکس، انسدادِ منشیات کے اقدامات اور ٹیکس چوری (بشمول تمباکو کے شعبے سے منسوب ایک ارب ڈالر کی تخمینہ شدہ رقم) کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
کمیٹی کے کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت اجلاس کے دوران ابتدا میں سیکریٹری داخلہ کی عدم حاضری پر اعتراض کیا گیا۔
سیف اللہ ابڑو نے وزارت داخلہ کے حکام سے کہا کہ آپ کے منسٹر نے کہا ہے سسٹم تباہ ہو چکا ہے، سیکریٹری کو کہیں یہ اہم میٹنگ ہے، سیکریٹری کو یہاں آنا چاہئے۔
سیف اللہ ابڑو نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے بارے میں کہا کہ وہ پاکستان میں نمبر ون ہیں۔
کمیٹی کے کنوینئر کے مطابق 20 جولائی کو اس کمیٹی کا اجلاس ہوا اور پھر 21 کو ایک ہینڈ آؤٹ جاری ہوا کہ موٹروے پولیس نے 11 ٹرک پکڑے جن میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ ہیں، اور ان کو سینیٹرز سے منسوب کیا گیا۔
کمیٹی کے اجلاس میں سکرین پر اے بی این نیوز کی نان کسٹم پیڈ سگریٹ پکڑے جانے والی خبر کی ویڈیو اور بیپر چلایا گیا، کمیٹی اجلاس میں سکرین پر ایک پریس ریلیز بھی دکھائی گئی۔
کمیٹی کے کنوینئر سیف اللہ ابڑو نے پوچھا کہ یہ کس کی پریس ریلیز ہے؟ تو وہاں موجود کسٹمز حکام نے بتایا کہ یہ پریس ریلیز اُن کی نہیں ہے۔
اس کے بعد کمیٹی نے خبر کے معاملے پر موٹروے پولیس حکام کو طلب کیا۔
اس دوران سیف اللہ ابڑو نے حکام سے کہا کہ آپ نے کمیٹی کو متنازع کہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سگریٹ نہیں پیتا، 22 کروڑ کی سمگلنگ جس نے بھی پکڑی ہے اس کو اون تو کرے۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹر طلحہ محمود ملک کے ٹاپ کے ٹیکس دینے والوں میں سے ہیں، کیا جو اربوں روپے کے ٹیکس دیتے ہیں وہ ملک کے خراب لوگ ہیں؟
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ جس چینل نے چلایا ہے،اگر اس طریقے سے بغیر تصدیق کے کسی کی بے عزتی کی جائے، یہ نامناسب بات ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پوچھا کہ موٹروے پولیس کو کیسے پتہ چلا، فلانی کمپنی ہے، فلانی کمپنی ہے؟
سینیٹر طلحہ محمود نے پوچھا کہ پکڑے گئے یہ ٹرک کہاں ہیں، یہ کس کے ہیں؟ کسٹمز حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ ٹرک مختلف جگہوں پر موٹروے کے چکری سے اٹک تک کی رینج میں پکڑے گئے،
جو مٹیریل پکڑے گئے سگریٹس میں استعمال ہوا وہ سارا سمگلڈ ہے۔
کسٹم حکام کے جواب پر پوچھا گیا کہ ابھی تو یہ بھی واضح نہیں کہ یہ سگریٹ یہاں بنے ہیں، ہو سکتا ہے افغانستان سے آئے ہوں۔
کمیٹی کے کنوینئر نے کسٹمز حکام سے پوچھا کہ کیا انہوں نے 21 جولائی کو یہ بیان ٹی وی پر چلوایا؟ ان کا جواب تھا کہ ایف آئی آر میں ایسی کسی چیز کا ذکر ہی نہیں۔
کمیٹی نے ایف آئی اے کے حکام کو ہدایت کی کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (محکمہ اطلاعات) کو تفتیش میں شریک کریں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ایک ایف آئی آر مزید بھی درج کرائیں۔
کنوینر کمیٹی نے کہا کہ ایف آئی اے کو اس پر ایکشن لینا ہے، ہمیں ایک رپورٹ چاہیے، یہ سگریٹ کس کے کتنے ہیں، سینیٹر دلاور خان کے کتنے ہیں، سینیٹر فیصل سلیم رحمان کے چچا کے کتنے ہیں؟
سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ایف آئی آر فہیم رشید کے خود کروائی ہے، ہم نے تو نہیں کروائی، سب سے بڑا ٹیکس پیئر میں ہوں، 9 ضلعوں کے تمباکو کے کاشتکار رو رہے ہیں، ہمارے نام کیوں ڈالے؟
کنوینر کمیٹی نے انفارمیشن منسٹری کے حکام کو ہدایت کی کہ اے بی این نیوز کو تفتیش میں شامل کریں۔
کسٹمز کے حکام نے کمیٹی کو ایک بار پھر بتایا کہ خبر موٹروے پولیس کے حوالے سے چلی ، ہمارے حوالے سے نہیں چلی۔
کمیٹی کے کنونیئر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کسٹمز حکام سے پوچھا کہ کیا ٹرک ڈرائیوروں میں سے کوئی ڈرائیور سینیٹر ہے؟ کتنی پگڑی اچھالیں گے سینیٹرز کی؟
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایف بی آر جب بھی آتی ہے انٹرنیٹ سلو ہو جاتا ہے، یہ محسوس ہوتا ہے کمیٹی کو دبانے کے لیے یہ ساری کاروائی کی جارہی ہے تاکہ یہ لوگ اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں۔
وفاقی ٹیکس محکمے ایف بی آر کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سگریٹ کسٹمز والوں نے پکڑے ہیں، اور ٹی وی پر نشر کیا گیا بیان انہوں نے جاری نہیں کیا۔
کسٹمز حکام نے بتایا کہ پہلی خبر میڈیا پر موٹروے پولیس نے دی جس میں 22 کروڑ مالیت سگریٹ کا ذکر ہے جبکہ ہماری ایف آئی آر میں 40 کروڑ کی مالیت ہے، ہماری پریس ریلیز میں تو یہ چیز ہے ہی نہیں، سگریٹ کے پکڑے گئے چند برانڈز ایسے ہیں جن کا کچھ پتہ نہیں۔
اس دوران سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ یہ ایف بی آر کا کیس نہیں بنتا، پلاسٹک کہاں سے آتا ہے، آپ کی شخصیت مشکوک ہو رہی ہے۔
کسٹمز حکام نے جواب دیا کہ جو مٹیریل استعمال ہوا ہے وہ امپورٹڈ ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے اس موقع پر کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کا بیان سنا ہے اور وہ اس سے 100 فیصد متفق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے گروپ پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں، ذمہ دار ایف بی آر ہے، پاکستان میں بیروزگاری ہے خودکشیاں ہو رہی ہیں، اس وقت بزنس مین خوفزدہ ہیں، پوری دنیا میں بزنس مین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ وہ اس پر تحریک استحقاق لائیں گے جبکہ کمیٹی نے وزرت اطلاعات کو ہدایت کی کہ وہ نجی نیوز چینل کو خط لکھیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے ایک بار پھر کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا جائے۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ کے حکام کو بھی اے بی این نیوز کو معاملے کے حوالے سے لکھنے کی ہدایت کردی جبکہ وفاقی محکمہ ٹیکس ایف بی آر نے کہا کہ میڈیا رپورٹ کا ایف بی آر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
کمیٹی کے کنوینئر کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کنزمپشن سرٹیفکیٹ میں مینوئل کام کرتا ہے، یہ الارمنگ ہے۔
اس دوران طلب کرنے پر آئی جی موٹروے پولیس اجلاس میں پہنچے تو ان سے پوچھا گیا کہ ایف بی آر والے کہہ رہے ہیں ہمارا ہینڈ آؤٹ سے تعلق ہی نہیں۔
آئی جی موٹروے پولیس نے کہا کہ
ہمیں اطلاع ملتی ہے تو جو ادارہ ہمیں کہتا ہے فلانی گاڑی کو روک لیں ہم ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔
کمیٹی میں ایک بار پھر اے بی این نیوز کی خبر چلا دی گئی جس کو دیکھتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ خبر پر فیصل سلیم کی تصویریں لگائی گئی ہیں یہ تو ظلم ہے، یہ زمان مغل بیوروچیف بتائے گا کس طرح اس نے یہ خبر دی ہے، 100 فیصد کنفرم ہو گیا کہ کمیٹی کو ختم کرانے، معاملہ دبانے کے لیے یہ ساری کارروائی ہو رہی ہے، یہ تو بے عزت کرنے والی بات ہے۔
کمیٹی کے کنوینئر نے کہا کہ ان کے موبائل لیں، ان کو کسی نے تو انفارمیشن بھیجی ہو گی، تین دن بعد میٹنگ رکھتے ہیں،زمان مغل، مالک سارے ریکارڈ کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ کریں۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ حکام کو اے بی این کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں این سی سی آئی اے کے ڈی جی کو بھی طلب کر لیا۔
کمیٹی کے کنوینئر نے کہا کہ ملوث لوگ قانون کے دائرے میں لانا چاہئے، زمان مغل کو بلا کے بٹھائیں، اس کے ساتھ ایسا کام کریں جیسا پی ٹی آئی کے ورکر کے ساتھ کرتے ہیں، بتا دے گا، جو ایف آئی آر بنتی ہے وہ کریں، مالک اور مغل صاحب کو گرفتار کریں۔
دو گھنٹے سے ہم سن رہے ہیں جیسے ہم نے سب کچھ کیا ہو، ایف بی آر حکام
ہمارے اوپر ڈائریکٹ ہٹ ہوا ہے، بینیفشری آپ آرہے ہیں، میں تو سوچ رہا ہوں اس کمیٹی کا حصہ رہنا چاہیے یا نہیں، ہر آدمی کی عزت ہوتی ہے، ذیلی کمیٹی کا نام کیوں آیا، فیصل سلیم رحمان کی تصویر کیوں دکھائی گئی ہے۔
موٹروے پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ابھی تو یہ معاملہ زیرِتفتیش ہے۔ کسٹمز کے نمائندے سے کمیٹی میں کہا کہ اُن کی بھی اتنی عزت ہے جنتی اس کمرے میں ہر بندے کی ہے۔
ایف بی آر کے حکام نے کہا کہ ان کی حوصلہ شکنی کریں گے تو کیسے کام کریں گے، انویسٹیگیٹ کرائیں،ہمیں کیوں مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے حکام سے کہا کہ آپ کا فرض بنتا تھا آپ ان کو نوٹس بھیجتے، اگر دلاور، فیصل سلیم ملوث ہیں تو ڈی چوک پر گولی مار دیں، اتنا بڑا کام ہوا ہے آپ ریلیکس بیٹھے ہیں، قانونی طور پر ایف آئی آر کاٹیں، ہمیں رپورٹ دیں، دوسروں کی پگڑیاں کم اچھالیں اپنا کام بہتر کریں۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے کنوینئر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایک خاتون افسر نے گزشتہ اجلاس کے کمنٹس جاری نہیں کیے، سات دن ہو گئے، لگتا ہے وہ 100 سینیٹرز پر بھاری ہے۔