’ایم اے اور ایویں‘ کو برابر سمجھنے والے اوورسیز پاکستانی دماغ، نور الامین دانش کا کالم
جس ملک میں آپ پیدا ہوئے ہوں اسے چھوڑنا شاید زندگی کا مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے،لیکن گردش ایام سب کچھ کرواتے ہیں۔
اپنے ملک میں بہت بڑے بڑے عہدوں پر کام کرنے والوں کے مرتبے اور ناموں کو یہاں سٹورز پر کام کرتے، اوبر چلاتے اور ریستوران کے برتن دھوتے دیکھا ہے۔ اور کہیں غلطی سے اگر یہاں مقیم اپنے ہم وطنوں کو آپ کی شخصیت کی بھنک بھی پڑ جائے یا اگر آپ ان کو کچھ بتا بیٹھیں تو پھر یہ آپ سے دشمنی کرنے لگیں گے۔ کیونکہ زیادہ تر بغیر تعلیم کے ان ممالک میں تشریف لائے- بلاشبہ انہوں نے یہاں اربوں روپے بھی کمائے لیکن ان کا احساس کمتری کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔
ان کو ہر اس شخص سے نفرت ہے جو ان سے زیادہ پڑھا لکھا ہو، جس کی اپنے ملک میں پہچان ان سے بڑھ کر ہو، حتٰی کہ آپ اگر کسی بڑی شخصیت سے ملاقات کا ان سے تذکرہ بھی کر لیں گے تو پھر یا تو آپ کو ان کے پاس سے جاب چھوڑنی پڑے گی یا پھر آپ کی زندگی کو اجیرن بنا دیں گے-
ایک بار تو ایک صاحب بھری محفل میں فرما رہے تھے کہ میں نے یہاں کئی ججز ، ڈاکٹرز ، صحافیوں اور بہت سارے لوگوں کے بھرم توڑے ہیں جو پاکستان میں بہت معتبر سمجھے جاتے تھے۔ایک دوسرا بندہ ساتھ فرماتا ہے کہ (او چھڈو جی تہاڈی ایم اے تے اساڈی ایویں برابر ای اے)۔
بڑے بڑے گھر، ملین ڈالر کی گاڑیاں اور پتا نہی کیا کچھ لیکن اس وقت انتہائی افسوس ہوتا ہے جب یہی نام نہاد کامیاب بونے اپنے ملک سے انے والے نئے لوگوں کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔کسی کو اوبر چلانے والے کا طعنہ مارنا ، کسی کے کام کو کمتر سمجھنا حتٰی کہ یہ تک کہہ دیتے ہیں او، یار وہ تو کرائے کے روم میں رہتا ہے، یہ الفاظ ان کی ذہنی پستی و غلاظت کے عکاس ہیں۔
اگر آپ کے دن برے ہوں اور کبھی ان کی کسی محفل میں جانے کا اتفاق ہو جائے تو بس وہاں پر زیر بحث موضوعات میں گھر، مہنگی گھڑی، گاڑی، جوتا اور مہنگا کوٹ ہی ہوں گے اور مہمان کو تو یہ ایسے انداز میں گھوریں گے کہ ان کا بس نہیں چل رہا ورنہ اُس سے تو جینے کا حق بھی چھین لیں۔
امریکہ میں مقیم معروف پروفیسر ڈاکٹر علی ساجد کہتے ہیں کہ اُن کی کامیابی ایسے ہی لوگوں کی گھٹیا سوچ کی مرہون منت رہی ہے۔آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور امریکہ کے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا سہرا ایسے ہی لوگوں کی جملہ بازی کی بدولت ممکن ہوا کیونکہ اگر یہ اتنا نیچ پن نہ دکھاتے تو شاید میں اپنے آپ کو اتنا بڑا چیلنج بھی نہ دیتا۔
ایک گورکن سے یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ اس دنیا سے جانے کے کچھ برس بعد کچھ لوگوں کی قبر سے ہارٹ اور کڈنی کے سٹنٹ ، ٹانگ اور ہاتھ میں ڈلی لوہے کی پلیٹیں ضرور ملیں گی مگر وہ سریا نہ ملے گا جو دوران زندگی وقت کے فرعونوں کی گردنوں میں تھا۔
آخر میں اپنے بیرون ملک آنے والے اپنے ہم خیال دوستوں سے گزارش ہے کہ ان مہنگی گاڑی، گھڑی اور پانچ ملین ڈالر کے محل میں رہنے والی نوری مخلوق سے جہاں تک ہو سکے تعلقات رکھنے سے گریز کریں ورنہ کل کو آپ نیو یارک کے مئیر بنیں یا کوئی اور سیارہ دریافت کر لیں ان کی عینک صرف آپ کے ماضی کا مشکل وقت ہی دیکھتی رہے گی-
اور یاد رکھیں کہ ایسے لوگ اور ان کی باتیں آپ کو زیادہ محنت پر اُکسائیں تو سمجھیں کہ یہی درست راستہ ہے، اپنے راستے خود تلاش کریں- مرعوب ہونے سے آپ اپنی شخصیت کو ہی گہنائیں گے حاصل کچھ نہ ہو گا-

