اہم خبریں

جمودِ جمہوریت، معاذ بن محمود کا کالم

اگست 12, 2026

جمودِ جمہوریت، معاذ بن محمود کا کالم

ہم نے جمہوریت کو کم و پیش ایمان کی طرح قبول کیا۔ کچھ یہ نظام باقی سب سے بہتر نظر آیا تو کچھ مغرب کا اس کی طرف جھکاؤ اور ہمارا مغرب کی طرف جھکاؤ رہا۔ مذہب والے ایمان میں پھر کئی سوال اٹھ،ے کچھ کے جواب مل گئے، کچھ کے باقی ہیں۔ جمہوریت پر تو سوال بھی اب سے کچھ برس پہلے تک نہیں اٹھائے کہ سخت گناہ رہا۔

لیکن جمہوریت کی جو شکل دور حاضر عملا دستیاب ہے اس سے اب دل اٹھ ہی نہیں خراب بھی ہوچکا ہے۔ عمران خان، بورس جوہنسن اور ڈونلڈ ٹرمپ کا براستہ جمہوری نظام ظہور بذات خود عالمی سطح پر جمہوری نظام کے گل سڑ جانے کی نہ سہی، کم از کم اس نظام میں واضح سقوم کی برہان ضرور ہے۔ اور ان تینوں خاص کر عمران خان اور ٹرمپ کے سیاسی سفرناموں پر غور ہو تو احساس ہوتا ہے کہ جمہوری نظام کو exploit کرنے میں بڑا ہاتھ ڈیجیٹل میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کا ہے۔ فی الوقت ہم ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کو interchangeably استعمال کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے بگاڑ کی ایک اور بڑی وجہ براہ راست جمہوریت direct democracy کی بجائے نمائندگی پر مبنی جمہوریت یا representative democracy ہے۔

سوشل میڈیا اپنی اصل میں کوئی منفی تصور نہیں ہے۔ اسے چھری کی طرح سمجھ لیجئے جس کا استعمال منفی یا مثبت ہو سکتا ہے، جیسے چھری بطور آبجیکٹ منفی تصور نہیں کی جاتی۔ سوشل میڈیا کا آغاز انسانوں کے باہمی روابط کو فاصلوں کی قدغن سے مبرا کرنے کے لیے ہوا تھا تاہم چونکہ پلیٹ فارمز میں شناخت چھپانے کی صلاحیت دستیاب تھی لہذا اب انسان یہاں وہ سب کہنے اور کرنے کے قابل بھی ہوگئے جو وہ بصورت دیگر کسی خوف یا کسی ہچکچاہٹ کے کرنے سے قاصر رہتے۔ دوسرے الفاظ میں فریڈم آف سپیچ کو بالعموم فائدہ پہنچا مگر چونکہ کسی بھی سسٹم میں exploitation کی گنجائش کم و پیش ہمیشہ ہی رہتی ہے لہذا سوشل میڈیا کے ذریعے بھی جہاں جس کا زور چلا استحصال کا چلن عام ہوتا گیا۔ اس ایکسپلائیٹیشن کی مثالوں میں آن لائن ہراسمنٹ سے لے کر کسی مخصوص پراپیگنڈے کی ترویج تک سبھی شامل ہیں۔ ہراسمنٹ وغیرہ چونکہ انفرادی عمل ہیں جن کا براہ راست تعلق جمہوریت پر نہیں ہوتا لہذا ہم پروپیگنڈے کی چند مثالوں پر بات کریں گے۔

کسی بھی پروپیگنڈے کی کامیابی ایک دلچسپ اکیڈمک موضوع ہے اور اس پر کام بھی یقیناً ہوا ہوگا تاہم سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پروپیگنڈے کی کامیابی دو تین اہم نکات پر مبنی ہوتی ہے۔ پہلا نکتہ عوام کے اندر موجود کسی غصے یا منفی تاثرات و جذبات کی ہائی جیکنگ اور دوسرا پروپیگنڈے پر یقین کرتے نظر آنے والے لوگوں کی تعداد۔ مثلاً امریکہ سمیت وہ ممالک جنہیں عمومی طور پر ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے میں روزگار حاصل کرنے کے مواقع کم ہونے پر عوامی غصے کو ہائی جیک کر کے اسے امگرینٹس یعنی غیرملکیوں یا پناہ گزینوں کے ساتھ نتھی کر دیا گیا اور پھر اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ کیمبرج اینالیٹکا سے لے کر اسرائیل کی برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں سوشل میڈیا کیمپینز کو گہرائی سے پڑھا جائے تو یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ کسی ایک معاملے میں تیز آنچ پر رکھے عوامی جذبات پر کڑاہی رکھ کر کیسے اپنی لیے شنواری پکائی جا سکتی ہے۔
آغاز فیک اکاؤنٹس اور بوٹس سے ہوتا ہے، ساتھ ایک آدھ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو ملایا جاتا ہے اور اس کے بعد پہلے سوشل میڈیا اور پھر سڑکوں پر احتجاج یا مارچ کے نام پر ریاست کو دباؤ میں لا کر ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جاتے ہیں۔ یہ ایک پیٹرن ہے جس کی شدت کسی بھی ریاست میں جمہوریت کے گل سڑ جانے کے درجے سے راست متناسب ہے۔ سامنے سامنے کی مثالوں میں پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ مثلاً آپ آسٹریلیا اور برطانیہ میں اینٹی امگرینٹس جذبات کی بڑھوتری اور ان دونوں ممالک کی جانب سے فلسطین کی قبولیت دونوں کی ٹائم لائنز اور chronological sequence پر غور کیجئے، ساتھ دونوں ممالک میں اسرائیلی لابیز کی جانب سے سرکاری سطح پر قبول شدہ خبریں دیکھیں اور اس پر کچھ سوچیں تو کافی کچھ سمجھ آجائے گا۔ اسی طرح پراجیکٹ عمران خان کا ارتقاء دیکھیں پھر فوجی بھائیوں خصوصاً میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ماضی میں دیے گئے بیانات دیکھیے اور پھر نوٹ فرمائیے کہ عوامی جذبات کو ہائی جیک کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بوٹس سے لے کر انفلوئنسرز تک کا استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی حرکات آج بھی جاری و ساری ہیں بس حق و باطل کے رخ toggle ہو کر بدل چکے ہیں۔

دور حاضر کی عملی جمہوریت میں دوسری بڑی خرابی representative democracy یا نمائندگی پر مبنی جمہوریت میں ہے۔ جمہوریت کا آغاز براہ راست ووٹنگ سے ہوا تھا نہ کہ نمائندگان مقرر کرنے سے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ریاستیں سرحدیں پھیلنے لگیں، فاصلے زیادہ ہونے لگے اور جمہوریت سے منسلک پچیدگیاں بڑھنے لگیں تو جمہور کی ترجمانی کا تصور سامنے آنے لگا۔ تب مگر ٹیکنالوجی وہ نہیں تھی جو آج ہے۔ یوں representative democracy کا بڑا مقصد scalability issues کو ختم کرنا تھا۔ قدیم ایتھنز کے شہری Sicily پر حملہ کرنے، باغی کو دی جانے والی سزا، چاندی کی کانوں سے آنے والی آمدن کے مصرف پر بھی براہ راست ووٹنگ کیا کرتے تھے۔ دور حاضر میں شاید سب کچھ ممکن نہ ہو، افغانستان یا ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے جنگ کا فیصلہ براہ راست عوام کی ووٹنگ سے ہوتا تو شاید دنیا آج نسبتاً بہتر حالات میں ہوتی۔
ظاہر ہے آج کی ریاست جس قدر یپچیدہ ہو چکی ہے ہر معاملے پر تو شاید فرد کی رائے لینا اتنا آسان نہ ہو، پھر بھی اگر معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان (آپ بیچ میں شہباز شریف کو بھی ڈال لیں) جیسے مسخرے براستہ جمہوریت مسندِ اقتدار پر پہنچ رہے ہیں تو میرا خیال ہے پھر باقی کی غیرجمہوری قوتوں پر بھی ایک بار نظر ثانی ہی کر لیں۔
جمہوریت کی مالا جپتے ہوئے کھمبوں تا گدھوں کو انتخابات میں‌ پارٹی کا ٹکٹ دینا اگر ڈیموکریسی ہے تو یقین کیجیے اس سے بڑھ کر جمہوریت کے نام پر دھوکہ شاید ہی کوئی ہو۔ جمہوریت کے نام پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینا اگر عوامی جذبات کی درست ترجمانی ہے تو میرا خیال ہے جمہوریت کے نام پر نافذ اس نظام پر کہیں نہ کہیں سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت تو ہے۔ جمہوریت کے نام پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ایٹم بم پکڑا دینا اگر ایک حقیقت ہے تو شاید جمہوریت بطور نظام اتنا کامیاب رہا نہیں جتنا ہم نے سوچ رکھا تھا۔

آپ دیگر وجوہات پر غور و فکر کرنے میں آزاد ہیں۔ مجھے البتہ یوں لگتا ہے کہ جمہوریت، جمود کا شکار ہو چکی ہے، دور حاضر میں دستیاب ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے اور representational democracy کو کھلی چھوٹ دے کر خود اپنی روح کے خلاف چل پڑی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی کئی اور امریکہ کی چند مقامی حکومتوں میں آج بھی براہ راست جمہوریت کے ذریعے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کا درست استعمال اور scalability کی پیچیدگیوں کا حل نکال کر ڈیجیٹل میڈیا تا نمائندگی پر مبنی جمودِ جمہوریت کے مسائل سے شاید نمٹا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ایک طویل سفر ہوگا اور صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب ریاست کے بڑے سٹیک ہولڈرز اس میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے