اہم خبریں

وہی کرتا ہوں جو فوجی کہتے ہیں، ٹرمپ کا چھپ کر طیارہ تبدیل کرنے پر مؤقف

اگست 12, 2026

وہی کرتا ہوں جو فوجی کہتے ہیں، ٹرمپ کا چھپ کر طیارہ تبدیل کرنے پر مؤقف

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ خفیہ سروس اور فوج کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں-

واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حملے کے ڈر سے کیٹرنگ کے ٹرک میں‌ چھپ کر طیارہ تبدیل کیا تھا-

اس کی تصدیق کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ گذشتہ ماہ ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر اپنے تحفظ کے پیشِ نظر انھوں نے خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا۔ تاہم انہوں‌ نے صحافیوں کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ خفیہ والے یعنی سیکرٹ سروس کے ایجنٹس چاہتے تھے کہ وہ دوسری پرواز سے سفر کریں- ’میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ مجھے وہی کرنا ہوتا ہے، جو وہ کہتے ہیں۔‘

صحافی کی جانب سے ترکی میں موجود خطرے سے متعلق دوسرے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہاں کوئی خطرہ موجود تھا۔ میں نے اِس بارے میں زیادہ نہیں پوچھا۔ اکثر دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے۔‘

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر پہلے ٹی وی کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے لیکن بعد میں انھیں خاموشی سے ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔

خبر میں‌ کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کی خفیہ طریقے سے دوسرے طیارے میں منتقلی سے ایئرفورس ون میں موجود صحافی اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان بھی لاعلم رہے تھے۔

’سی بی ایس نیوز‘ کا ایک رپورٹ میں‌ دعویٰ تھا کہ امریکی حکام کو ایران کی جانب سے طیارے پر میزائل حملے کی اطلاع ملی تھی۔

ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک نئے بوئنگ طیارے 747-8 میں ترکی پہنچے تھے، جو قطر کی جانب سے صدر ٹرمپ کو فراہم کیا گیا تھا، تاہم ترکی سے واپس روانہ ہونے سے قبل انھوں نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ ’پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے‘ اپنے پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کریں گے۔

آٹھ جولائی کو نشر ہونے والی ویڈیوز میں ڈونلڈ ٹرمپ کو انقرہ ہوائی اڈے پر صدارتی طیارے میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعد ازاں انھیں خفیہ طور پر ایک نسبتاً چھوٹے فوجی طیارے سی 32 اے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ بوئنگ 757 کا ترمیم شدہ ماڈل ہے، جو عموماً امریکی نائب صدر کے زیرِ استعمال رہتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے