بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اسحاق ڈار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب تک دستیاب اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔‘
انھوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان ایک غیرفوجی تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’اس نوعیت کے حملے بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، اور بحری آمدورفت کی آزادی، سمندری سلامتی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازرانی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے متعلق مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پاکستان متعلقہ سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہے۔
’ہم صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں رہیں گے۔‘
گذشتہ روز یمن کے کوسٹ گارڈ حکام نے تصدیق کی تھی کہ باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
کوسٹ گارڈ نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے کیا۔
دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور سپلائی چین اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اسلام آباد اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
بدھ کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی سے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کے متعلق سوال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اسحاق ڈار کا بیان دہرایا جس میں حوثی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کا رکن اور دستخط کنندہ ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس اتحاد کے اعلامیے پر عمل پیرا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب اور اتحاد کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ عالمی سپلائی چین اور بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

