لاہور پولیس کی حراست میں دو خواتین کی موت، ہیومن رائٹس واچ کا آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
لاہور/لندن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے لاہور میں پولیس حراست کے دوران ایک خاتون اور 17 سالہ لڑکی کی موت کی فوری، آزادانہ اور شفاف فوجداری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان میں زیرِ حراست افراد، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں، کے ساتھ مبینہ تشدد اور بدسلوکی سے متعلق دیرینہ خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق انمول اور آمنہ، جو آپس میں رشتہ دار تھیں، 5 اگست 2026 کو پولیس حراست کے دوران ہلاک ہوئیں۔
لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کو 4 اگست کو چوری کی شکایت کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں الگ الگ تھانوں میں منتقل کیا گیا، جہاں چند گھنٹوں کے اندر دونوں کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ پولیس کے مطابق انمول تھانے میں جبکہ آمنہ ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد دم توڑ گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹس میں دونوں کی موت کے بعد کارڈیک اریسٹ کا ذکر کیا گیا، تاہم حتمی وجہ موت کا تعین نہیں ہوسکا اور طبی شواہد مزید تجزیے کے لیے فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں۔
متاثرہ خاندان نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ لاشوں پر مبینہ تشدد کے نشانات اور کپڑے پھٹے ہوئے تھے، جبکہ انہیں خاموش رہنے کے لیے رقم کی پیشکش بھی کی گئی۔ پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں دونوں کے منشیات کے استعمال اور ممکنہ اوور ڈوز کا پہلو سامنے آیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی سینئر ایشیا ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر پیٹریشیا گوسمین نے کہا کہ پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حکام پر لازم ہے کہ پولیس حراست میں ہونے والی ان اموات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور اگر کسی اہلکار کی ذمہ داری ثابت ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
واقعے کی مجسٹریٹ کے ذریعے انکوائری شروع کردی گئی ہے، تاہم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مجسٹریل انکوائری باقاعدہ فوجداری تحقیقات کا متبادل نہیں۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Act 2022 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات پنجاب پولیس سے آزاد تفتیش کاروں کے ذریعے کرائی جائیں اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس مؤثر نگرانی کرے۔
ہیومن رائٹس واچ نے نشاندہی کی کہ 2022 کے قانون کے نفاذ کے باوجود زیرِ حراست تشدد سے متعلق مقدمات میں کارروائی محدود رہی ہے۔
تنظیم کے مطابق ایف آئی اے نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ 30 اپریل تک ملک بھر میں اس قانون کے تحت 364 انکوائریاں شروع ہوئیں، لیکن صرف 52 باقاعدہ فوجداری مقدمات میں تبدیل ہوئیں۔ پنجاب میں 266 انکوائریوں کے مقابلے میں صرف 19 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔
تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس حراست میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے وکیل تک فوری رسائی، آزاد طبی معائنہ، درست حراستی ریکارڈ اور اہل خانہ کو بروقت اطلاع دینے سمیت قانونی تحفظات کو یقینی بنایا جائے۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ انمول اور آمنہ کی اموات اس بات کا اہم امتحان ہوں گی کہ حکومت پولیس اہلکاروں پر الزامات کی صورت میں 2022 کے انسدادِ تشدد اور زیرِ حراست اموات کے قانون پر مؤثر عملدرآمد کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہے۔

