اہم خبریں

مبینہ منشیات سمگلر انمول عرف پنکی تین مقدمات میں‌ عدالت سے کیوں‌ بری کی گئیں؟

اگست 14, 2026

مبینہ منشیات سمگلر انمول عرف پنکی تین مقدمات میں‌ عدالت سے کیوں‌ بری کی گئیں؟

منشیات سمگلنگ اور بیچنے کے الزام میں‌ گرفتار خاتون انمول عرف پنکی کو کراچی کی ایک سیشن عدالت نے گِزری پولیس سٹیشن میں درج تین مقدمات سے بری کر دیا ہے۔

منشیات بیچنے کے الزامات میں یہ مقدمات سنہ 2020، 2021 اور سنہ 2022 میں درج کیے گئے تھے اور ملزمہ کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) ارشاد حسین کی عدالت نے انمول پنکی کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے سیکشن 265-K کے تحت دائر درخواست کی سماعت مکمل کرتے ہوئے تینوں علیحدہ درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمات سے بری کر دیا۔

عدالت نے جج نے فیصلے میں‌ کہا کہ "میری حتمی رائے ہے کہ یہ مقدمہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 265-K کے تحت اختیارات استعمال کرنے کے لیے موزوں ہے۔ اس سے نہ صرف عدالت کا قیمتی وقت بچے گا بلکہ ملزمہ کو غیر ضروری مشکلات سے بھی نجات ملے گی۔”

عدالت نے خواتین کی جیل حکام کو ہدایت کی کہ اگر ملزمہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔ تاہم، وہ جیل میں ہی رہیں گی کیونکہ عدالتوں میں ان کے خلاف ایک درجن سے زائد مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں۔

دلائل کے دوران ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا نام مقدمات میں شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر شامل کیا گیا تھا، اور ان ملزمان کو بعد ازاں بری کر دیا گیا تھا۔

وکیل نے کہا، "شریک ملزمان کی بریت کے بعد، ملزمہ (پنکی) کو سزا دلانے کے لیے کوئی مقدمہ باقی نہیں رہتا۔”

عدالتی احکامات میں سے ایک کے مطابق، پنکی کا نام 2021 کے ایک مقدمے میں منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار دو ملزمان نے لیا تھا، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے (پنکی نے) انہیں منشیات فراہم کی تھیں۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے گزشتہ ماہ جمع کرائی گئی ضمنی چارج شیٹ سے انکشاف ہوا کہ پنکی کے خلاف ایک درجن سے زائد مقدمات درج ہیں۔

انہیں مئی 2026 میں گارڈن پولیس اسٹیشن میں منشیات اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے سے متعلق درج دو مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل ہی ان کے خلاف متعدد دیگر فوجداری مقدمات درج کیے جا چکے تھے۔

یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر ان کی عدالت منتقلی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہیں ہتھکڑیوں کے بغیر لے جایا جا رہا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے