قصور میں بھٹے پر زندہ جلائے گئے میاں بیوی کے مقدمے میں آخری سزایافتہ بھی بری
توہین مذہب کے الزام میں زندہ جلائے گئے میاں بیوی کے مقدمے کے آخری تین سزایافتہ افراد بھی بری کر دیے گئے-
سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ:
ضلع قصور کے کوٹ راھا کشن کے چک نمبر59 میں بھٹے پر زندہ جلائے گئے میاں بیوی کے قتل مقدمے میں کُل 106 افراد نامزد تھے، 93 کو ٹرائل کورٹ نے بری کیا، اور 13 کو سزا سنائی- ہائیکورٹ میں اپیلوں کے دوران 10 مزید بری کر دیے گئے تھے- آخری تین سزا یافتہ نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں-
مقدمے کے مدعی سب انسپکٹر محمد علی نے ایف آئی آر درج کروائی، جس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ 04 نومبر 2014 کو صبح تقریباً 7:20 بجے وہ دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مانگا روڈ (قصور) پر واقع چک نمبر 65 کے ‘اڈے’ (بس اسٹاپ) پر موجود تھے۔
اس دوران انہیں (مدعی کو) اطلاع ملی کہ چک نمبر 59 میں واقع یوسف گجر (شریک ملزم جو بعد ازاں بری ہو گیا) کے بھٹے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی ہے اور وہ وہاں رہائش پذیر مسیحی برادری کے ایک خاندان پر تشدد کر رہے ہیں۔ مدعی دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ فوری طور پر مذکورہ بھٹے پر پہنچے، جہاں 500 سے 600 انتہائی مشتعل افراد کا ہجوم موجود تھا۔ ان میں سے کچھ افراد بھٹے کے دفتر کی چھت گرا رہے تھے۔
مدعی نے دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن مشتعل ہجوم نے ان پر بھی حملہ کر دیا۔ ان کی موجودگی میں، کچھ افراد نے بھٹے کے دفتر کی چھت گرانے کے بعد سجاد مسیح (مرحوم) اور مسماۃ سائمہ عرف شمع (مرحومہ) کو مذکورہ دفتر سے باہر نکالا اور انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس وقت جائے وقوعہ پر اقبال مسیح، شہباز مسیح اور عمران مسیح (گواہان استغاثہ) بھی موجود تھے۔
شکایت کنندہ فریق نے سجاد مسیح اور اُن کی اہلیہ صائمہ عرف شمع کو بچانے کی کوشش کی لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ بچانے والے افراد سے ہجوم زیادہ تھا۔ ان کی موجودگی میں ہجوم میں شامل یوسف گجر، منشی شکیل،منشی افضل، حاجی اکرم پپو، رمضان ڈرائیور، اکرم ولد نواز (بری ہونے کے بعد سے شریک ملزم) اور مہدی خان (اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست گزار) سمیت 8/10 نامعلوم ملزمان سجاد مسیح اور ان کی اہلیہ کو گھسیٹ کر لے گئے، اینٹوں کے بھٹے پراور بھٹی کے ڈھکن ہٹانے کے بعدانہیں اندر آگ میں ڈال دیا۔
وہ دونوں آگ کی لپیٹ میں آ کر کوئلہ بن گئے۔ دیگر باون (52) نامزد ملزمان نے بھی نامعلوم ملزمان کے ساتھ مل کر اس واقعے میں حصہ لیا؛ انہوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کیا، دونوں متوفین پر تشدد کیا، بھٹے کے دفتر کی چھت گرا کر متوفین کو باہر گھسیٹا، اور مساجد کے لاؤڈ سپیکرز پر جھوٹے اعلانات کے ذریعے عوام کو اشتعال دلایا کہ سجاد مسیح (متوفی) اور مسماۃ صائمہ عرف شمع (متوفیہ) کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی ہے؛ چنانچہ اس مقدمے کی ایف آئی آر (FIR) درج کی گئی۔
4. درخواست گزاروں کے فاضل وکیل کا موقف ہے کہ استغاثہ کے شواہد میں بنیادی تضادات موجود تھے جنہیں (یہاں سپریم کورٹ میں زیرِ بحث اس) فیصلہ کو سناتے وقت ٹرائل کورٹ نے نظر انداز کیا؛ ٹرائل کورٹ کی جانب سے کل 106 ملزمان کا مقدمہ چلایا گیا تھا جن میں سے پچانوے (95) شریک ملزمان کو ٹرائل کورٹ نے بری کر دیا، جبکہ دس (10) شریک ملزمان کو ہائی کورٹ نے بری کیا؛ اور موجودہ درخواست گزاروں کا مقدمہ بری ہونے والے شریک ملزمان کے مقدمے سے مختلف نہیں ہے، لہٰذا استغاثہ کے وہی شواہد جنہیں مقدمے سے بری ہونے والے شریک ملزمان کے خلاف ناقابلِ یقین قرار دیا جا چکا ہے، انہیں درخواست گزاروں کے خلاف بھی آزادانہ تائید کے بغیر قابلِ یقین نہیں سمجھا جا سکتا، اور اس مقدمے میں ایسی تائید کا شدید فقدان ہے؛ اس مقدمے میں ہلاک شدگان کے رشتہ دار چھ گواہوں نے بیان دیا ہے کہ وہ وقوعہ کے وقت اور ساتھ ہی محمد علی ایس آئی (مدعی) کی جانب سے شکایت (ایف آئی آر) کے اندراج کے وقت بھی موجود تھے، لیکن ایف آئی آر کے متن میں سزایافتہ محمد عرفان کا نام شامل نہیں کیا گیا؛ مدعی نے اس مقدمے میں محمد عرفان کو نامزد کرنے کے لیے کوئی ضمنی بیان بھی نہیں دیا؛ اور اگرچہ اس مقدمے میں دوسرے سزایافتہ محمد ریاض کمبوہ کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا لیکن ان کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ مارے جانے والے میاں بیوی کو گھسیٹا یا پھر ان کو بھٹے کی آگ میں پھینکا۔ لہٰذا سرکاری گواہوں کے بیانات، ایف آئی آر کے متن اور مرنے والوں کے چھ رشتہ داروں کی گواہیوں میں فرق ہے، یہ ایک دوسرے سے متضاد اور بے ایمانی کا نتیجہ ہیں-
یہ کہ فاضل ٹرائل کورٹ پہلے ہی استغاثہ کے اس ثبوت کو ناقابلِ یقین قرار دے چکی ہے جس کا تعلق مبینہ محرک اور ’سوٹوں‘ (لکڑی کے ڈنڈوں) کی برآمدگی سے تھا، اور اس طرح سزایافتہ دونوں افراد (محمد عرفان، ریاض کمبوہ) کے خلاف استغاثہ کے مقدمے کی کوئی آزادانہ تائید موجود نہیں ہے؛ یہ کہ استغاثہ کے گواہوں پر جرح کے دوران یہ بات بھی ریکارڈ پر لائی گئی تھی کہ بھٹے کی بھٹی پر آگ جلانے کا کام کرنے والے افراد جلنے سے بچنے کے لیے لکڑی کے جوتے اور گیلے کپڑے پہنتے تھے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ وقوعہ کے وقت کسی بھی مجرم نے لکڑی کے جوتے یا گیلے کپڑے پہن رکھے تھے، اور چونکہ انہیں (عرفان اور ریاض کو) جلنے کا کوئی زخم نہیں آیا تھا، اس لیے یہ حقیقت ثابت کرتی ہے کہ درحقیقت سزایافتہ دونوں افراد سجاد اور صائمہ کو بھٹے کی بھٹی میں پھینکنے کے کسی عمل میں ملوث نہیں تھے؛ یہ کہ بھٹے کا مالک یوسف گجر اور بھٹے کے منشی شکیل اور افضل، نیز بھٹے کا دیگر عملہ بشمول ڈرائیور رمضان اور گارڈ اکرم (جو سب شریک ملزمان ہیں)، کو ایف آئی آر میں مخصوص کردار ادا کرنے کے ساتھ نامزد کیا گیا کہ یعنی کہ وہ دونوں کو بھٹے کے دفتر سے گھسیٹ کر لائے، اور بھٹی میں پھینک دیا لیکن گواہوں کو دیکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ نے چھ کو بری کر دیا جبکہ کُل سات نامزد تھے اور ان کی بریت کے خلاف اپیلیں بھی نہ کی گئیں، رشتہ داروں کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ماننا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف آئی آر میں درج کہانی کو انہوں نے مسترد کر دیا- اس طرح استغاثہ کا یہ مقدمہ ہی جھوٹا ہو گیا کیونکہ جن رشتہ دار کو واقعہ کا چشم دید گواہ بنایا گیا وہ موقع پر موجود ہی نہ تھے اور یہ ثابت شدہ ہے کہ وہ ساتھ والے گاؤں کلارک آباد کے رہائشی ہیں جو چار، پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے-
سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ یہ مقدمہ اس افسوس ناک واقعے کا ہے جس میں مسیحی برادری کے دو بے گناہ افراد کی جانیں گئیں، اس نے ہمیں انتہائی رنجیدہ اور افسردہ کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ اس واقعے کا وقوع پذیر ہونا انتہائی ہولناک اور سفاکانہ ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ اس عدالت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے اور یہ دیکھے کہ آیا استغاثہ نے ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کیا ہے یا نہیں۔ ایسا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بے گناہ شخص، جس کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد موجود نہ ہوں، پھانسی پر لٹکا نہ دیا جائے؛ اور دوسری طرف، کوئی ایسا مجرم جس کے خلاف استغاثہ نے معقول شک و شبہ سے بالاتر ہو کر جرم ثابت کر دیا ہو، سزا سے بچ نہ سکے۔ لہٰذا، جذبات یا جرم کی سنگینی سے متاثر ہوئے بغیر، ہم ریکارڈ پر موجود شواہد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس مقدمے کا فیصلہ قانون کے مطابق کرنے جا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے نوٹ کیا ہے کہ استغاثہ کا مقدمہ خود متضاد ہے۔ کیونکہ محمد علی SI/شکایت کنندہ (گواہ نمبر 16) نے ایک بیان کیا ہے۔ جبکہ ایف آئی آر میں مختلف کہانی ہے لیکن مذکورہ کہانی کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
نجی چشم دید گواہوں کی طرف سے اس کی تردید کی گئی، جو مرنے والوں مسیحی جوڑے کے رشتہ دار تھے۔ یعنی اقبال مسیح (گواہ نمبر17)، عمران مسیح (18)، شہباز مسیح (19)، خرم شہباز مسیح (20)،سلیم امتیاز مسیح (21) اور نواز مسیح (22)۔
مزید برآں پولیس اہلکاروں کی جانب سے بیان کردہ کہانی بھی شامل ہے۔ زخمی گواہ یعنی کانسٹیبل محمد سلیم (13)،کانسٹیبل احمد دین 14)، اسسٹنٹ سب انسپکٹر رشید احمد (15) اور سب انسپکٹر محمدعلی شکایت کنندہ (16) جو کہ اس کے چشم دید گواہ تھے۔ مقدمے کے عینی شاہدین کی بیان کردہ کہانی سے بھی مختلف ہے-
سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید لکھا کہ استغاثہ کے پیش کردہ شواہد میں، مقدمے کے اہم پہلوؤں اور اس کیس کے مختلف ملزمان کے کرداروں کے حوالے سے نمایاں تضادات اور اختلافات موجود ہیں۔ یہ درست ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمے میں زخمی عینی شاہدین (PW-13، PW-15 اور PW-16) کے بیانات بھی بطور ثبوت پیش کیے ہیں، لیکن مذکورہ گواہوں کے جسموں پر موجود زخم محض وقوعہ کے روز جائے وقوعہ پر ان کی موجودگی کو ثابت کرتے ہیں۔ صرف اس حقیقت کی بنیاد پر عدالت کو ان کے بیانات پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کر لینا چاہیے، خاص طور پر جب نچلی عدالتیں انہی گواہوں کے بیانات کو، اسی طرح کے کرداروں کے حامل ان شریک ملزمان کے معاملے میں ناقابلِ یقین قرار دے کر انہیں بری کر چکی ہوں، اور جب ان کے بیانات مقتول سے وابستہ دیگر عینی شاہدین (PW-17 تا PW-22) کے بیانات سے بھی متصادم ہوں۔ مزید برآں، اب یہ بات مسلمہ اصول کے طور پر طے پا چکی ہے کہ کسی زخمی عینی شاہد کے جسم پر موجود زخم اس کی ساکھ اور سچائی کا حتمی ثبوت نہیں ہوتے۔

