پشتو زبان کی ٹک ٹاکر عائشہ گلیمنہ کے قتل کے مقدمے میں نامزد ایک ملزم گرفتار
پشتو زبان کی معروف ٹک ٹاکر شمسو عرف عائشہ گلیمنہ کے قتل کے مقدمے میں پنجاب پولیس نے ایک نامزد ملزم اور تین سہولت کاروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
ٹک ٹاکر شمسو عائشہ گلیمنہ کو 14 اگست کو تھانہ ٹیکسیلا کی حدود میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ قتل کی ایف آئی آر میں مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی گذشتہ تین، چار برس سے ٹک ٹاک پر متحرک تھیں اور ان کے 13 لاکھ فالورز بھی تھے۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ ٹک ٹاکر کے قتل کے مقدمے میں نامزد ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزم پر ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کو کال کر کے گھر سے باہر بُلانے کا الزام ہے۔
یہ مقدمہ مقتولہ کے والد فضل کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ اسی شخص کی فون کال سننے کے بعد اپنے بہن اور بھائی کو لے کر اپنے والد کے گھر جانے کے لیے اپنی گاڑی پر نکلیں اور اس کے بعد فیصل ٹاون کے قریب راستے میں موجود دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
ایف آئی آر کے مطابق گولی شمسو بی بی کی گردن پر لگی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی، جس کو مقتولہ کے بھائی چلا رہے تھے، بے قابو ہوکر مخالف سمت سے آنے والے ڈمپر سے ٹکرا گئی۔
اس حملے میں مقتولہ کے بھائی اور بہن بھی زخمی ہوئے۔
تفتیشی افسر کے مطابق مقدمے میں نامزد دو مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق نامزد ملزمان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے اور وہ اس واقعے کے بعد روپوش ہوگئے ہیں۔
پولیس تفتیش کے مطابق جیوفینسنگ سے معلوم ہوا ہے کہ ٹک ٹاکر عائشہ کے قتل کے وقت دونوں ملزمان کے موبائل فونز کی لوکیشن مری کی آ رہی تھی۔
راولپنڈی کے تھانہ ٹیکسلا میں شمسو عائشہ گلیمنہ کے قتل کی درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 14 اگست کو انھیں ایک شخص کی فون کال آئی، جس میں انھوں نے مقتولہ کو گھر سے باہر آنے کے لیے کہا گیا تھا۔

