صحت ملزم کا بنیادی حق، سپریم کورٹ کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد میں واقع نجی ہسپتال شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی ملزم کی صحت اس کا بنیادی حق ہے۔
منگل کو عدالت کے تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی صحت کے حوالے سے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے- عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمی خان ساتھ ہوں گے۔
عدالت نے آئندہ سماعت 16 ستمبر کو مقرر کرتے ہوئے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا�����۔
سپریم کورٹ نے یہ حکم تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہن عظمی خان کی جانب سے دائر درخواستوں پر دیا ہے جنھوں نے سابق وزیراعظم کی صحت اور ان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی شکایت کر رکھی تھیں۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی صحت کے بارے میں پی ٹی آئی کوئی سیاست نہیں کرے گی اور سابق وزیراعظم اگلی سماعت تک ایک ماہ ہسپتال میں ہی رہیں گے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عمران خان کے علاج پر اٹھنے والے تمام اخراجات ان کا خاندان برداشت کرے گا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عمران خان کو جب ہسپتال منتقل کیا جائے تو وہاں امن وامان کی صورت حال پیدا نہیں ہونی چاہیے اور کسی کو بھی اس میں خلل پیدا نہیں کرنا چاہیے۔
قبل ازیں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں کیا کہا گیا تھا؟
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں اینزائٹی (بے چینی) کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے، جو انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا آخری مرتبہ طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ نے کیا تھا اور اس میڈیکل بورڈ میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی عمر تقریباً 73 سال ہے اور طبی معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم میڈیکل رپورٹ کے مطابق سینے میں درد، بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے ادویات تجویز کی تھیں۔