اہم

عمران خان کی ہسپتال منتقلی، سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کا مکمل ترجمہ

اگست 18, 2026

عمران خان کی ہسپتال منتقلی، سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کا مکمل ترجمہ

سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں‌کہا ہے کہ حکومت کے متعلقہ افسران اس عدالت کے روبرو درخواست گزار (عمران خان) کا مکمل طبی ریکارڈ پیش کریں گے؛ اس ریکارڈ میں تمام طبی ٹیسٹ اور رپورٹس، ادویات کے نسخے، طبی آراء، معائنے کی رپورٹس اور گرفتاری کی تاریخ سے لے کر موجودہ تاریخ تک اسے دیے گئے علاج کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

عدالت نے مزید ہدایت کی ہے کہ متعلقہ افسر/حکومت ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے، گزشتہ تین ماہ کے دوران قیدی عمران احمد خان نیازی اور ان کے اہل خانہ و وکلاء کے مابین ہونے والی تمام ملاقاتوں کی تفصیلات بھی فراہم کریں گے۔

متعلقہ افسر/حکومت ان تمام مقدمات کی مکمل تفصیلات فراہم کرے گی جن میں قیدی ملزم ہے، گرفتار ہے، مقدمے کا سامنا کر رہا ہے، یا اسے مجرم قرار دے کر سزا سنائی جا چکی ہے۔

قیدی کو اگلے دو دنوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔

متعلقہ افسر/حکومت، شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت اور باہمی رابطے سے، قیدی کے طبی معائنے اور علاج کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے گی جو ایک فزیشن، ایک جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن کے ماہر، ماہرِ امراضِ چشم اور ماہرِ امراضِ قلب (کارڈیالوجسٹ) پر مشتمل ہوگا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان اور قیدی کی بہنوں میں سے ایک، یعنی ڈاکٹر عظمیٰ خان کو قیدی کے طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل رہنے کی اجازت ہوگی۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب سے فراہم کردہ علاج اور سہولیات سے متعلق ضروری اخراجات قیدی یا اس کے اہل خانہ برداشت کریں گے۔

سماعت کی اگلی تاریخ تک، قیدی کا کوئی بھی اہل خانہ، اس کی سیاسی جماعت کا رکن، یا اس سے وابستہ وکیل، اس کی صحت کی حالت یا طبی رپورٹس کو میڈیا یا عوام کے سامنے ظاہر یا شیئر نہیں کرے گا۔

متعلقہ حکومت اور اس کے متعلقہ افسران قیدی اور اس کے اہل خانہ کے درمیان ہفتے میں ایک بار ملاقات کی سہولت فراہم کریں گے۔

متعلقہ حکومت اور اس کے متعلقہ افسران قیدی کو اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت بھی فراہم کریں گے۔

سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم نامے میں‌ مزید لکھا ہے کہ:
قیدی کی سیاسی جماعت اور اس کے اہل خانہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی حدود میں کوئی عوامی اجتماع نہ ہو۔

قیدی، یا اس سے کسی بھی حیثیت سے تعلق یا وابستگی رکھنے والا کوئی بھی شخص، طبی رپورٹس یا اس کی صحت سے متعلق معلومات کو سیاسی مفاد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

ج) یہاں درج ہدایات میں سے کسی کی بھی خلاف ورزی کی صورت میں، اس خلاف ورزی کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا اور اس حکم کے تحت فراہم کردہ سہولیات فوری طور پر واپس لی جا سکتی ہیں۔

د) اگر حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کو اس حکم کے تحت فراہم کردہ سہولیات کے غلط استعمال کے حوالے سے کوئی شکایت ہو، تو حکومت یا متعلقہ افسر اس عدالت میں درخواست دائر کرنے کا مجاز ہوگا۔ اسی طرح، اگر قیدی یا اس کے اہل خانہ کو اس حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی شکایت ہو، تو وہ بھی اس عدالت میں درخواست دائر کرنے کے مجاز ہوں گے۔

ہ) حکومت اس پوری مدت کے دوران مناسب سیکیورٹی انتظامات کرے گی جس میں قیدی علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں موجود رہے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے