میرے ساتھ ٹارچر ہوا ہے، کسی انسان سے رابطہ نہیں کرنے دیتے: عمران خان
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گزشتہ رات انتظامیہ اور حکومت کا رویہ انتہائی افسوسناک تھا جنہوں نے سپریم کورٹ کے تین ججز کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں پھنکا۔
جمعے کی دوپہر اسلام آباد میں عمران خان کی بہن اور ڈاکٹر فیصل کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’اگر عدلیہ اپنے احکامات پر عمل نہیں کروائے گی تو عوام کس کی جانب رخ کرے۔ ‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’تین ججز نے عمران خان کے علاج شفا انٹرنیشنل میں کرنے کا حکم دیا مگر آئین و قانون سے خود کو یہ بالا تر سمجھتے ہیں۔ یہ ججز کی اور سپریم کورٹ کی توہین کی ہے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ججز فیصلہ کریں کہ کیا عدالت کو تالے لگوانے ہیں یا اپنے حکم پر عمل درآمد کروانا ہے۔ ججز کو آج ہی اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ہم اپنی تحریک چلائیں گے اور ہمیں عمران خان کے احکامات پر عمل درآمد کرنا ہے۔ اور فیصلے پر عمل در آمد نہ کروانے پر توہیں عدالت کی درخواست بھی دائر کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ نہ ہی ہسپتال کے اطراف پی ٹی آئی کارکنان تھے اور ہم نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر کارکنان جمع ہوئے تو ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ’جیل کے اطراف میں بھی میڈیا کے سوا کوئی نہ تھا۔‘
’میرے ساتھ ٹارچر ہوا ہے‘
پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کی بہن عظمی خان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کا صرف بلڈ پریشر لیا گیا اور آنکھ کا چیک اپ کیا گیا۔‘
عظمی خان نے دعویٰ کیا کہ ’بار بار پوچھنے کے بعد ہمیں کہا کہ ان کی آنکھ کا فالو اپ ہونا ہے اس لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ پھر ہم اندھیرے میں بیٹھے رہے۔ پمز میں اندھیرا تھا فون کی لائٹ سے ہم کو راستہ دکھایا گیا۔‘
’وہ لوگ ہم کو اوپر کہیں لے گئے جہاں عمران خان بیٹھے تھے۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اور کہا میں نے اپنی بہن کو 10 ماہ بعد دیکھا ہے۔ وہاں ڈاکٹرز کو میں نہیں پہچانتی تھی مگر ڈاکٹر فیصل وہاں نہیں تھے۔‘
’رات کے دو تین بجے ہوں گے عمران خان کی آنکھ میں انجیکشن لگایا۔ میں نے بتایا کہ ہم آپ کا مکمل چیک اپ شفا سے کروا کر واپس لے جائیں گے تو عمران خان خوش تھے۔‘
’وہ بار بار ایک بات کہتے رہے کہ میرے ساتھ ٹارچر ہوا ہے۔ نہ ٹی وی نہ پڑھنے کا مواد۔ کوئی میری پروا نہیں کرتا تھا میں بتاتا بھی تھا۔ کسی کے ساتھ ہیومن کانٹیکٹ نہیں کرنے دیتے۔ دو دن ٹی وی چلایا اور پھر بند کر دیا۔‘
عظمی خان کے مطابق ’عمران خان کی ایک آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ فجر کی اذان سکیم تھری کے پاس ہوئی۔‘