صدر ٹرمپ کی متضاد ترجیحات، امریکہ کا اندرونی قرضہ 40 کھرب ڈالر سے متجاوز
امریکہ کا اندرونی یا قومی قرضہ 40 کھرب ڈالر کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گیا ہے-
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ ایک انتہائی اہم اور حیران کن سنگِ میل ہے کیونکہ وفاقی اخراجات کا ایک بہت بڑا حصہ دفاعی اخراجات، سوشل سکیورٹی اور میڈی کیئر جیسے سماجی پروگراموں اور بڑھتے ہوئے خسارے پر ادا کیے جانے والے سود پر مشتمل ہے۔
قرضے کی اس سطح کا اندراج مارچ میں امریکہ کے 39 ٹریلین ڈالر کے ریکارڈ قرضے تک پہنچنے کے صرف پانچ ماہ بعد ہوا ہے۔ اس سے پانچ ماہ قبل یعنی اکتوبر میں یہ قرضہ 38 کھرب ڈالر تک پہنچا تھا۔
40 ٹریلین ڈالر کا یہ غیرمعمولی ہندسہ انتظامیہ کی متضاد ترجیحات کو اجاگر کرتا ہے؛ ان ترجیحات میں ایک طرف دفاعی اخراجات میں اضافہ شامل ہے (جس پر امریکہ ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی تقریباً چھ ماہ کی جنگ کو جاری رکھنے کے لیے انحصار کرتا ہے) اور دوسری طرف گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش ڈیسائی نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ "وفاقی اخراجات میں فضول خرچی، دھوکہ دہی اور وسائل کے غلط استعمال کو ختم کرنے کے ساتھ معاشی ترقی کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ امریکہ کے قرضے اور جی ڈی پی (GDP) کے تناسب کو درست سمت میں گامزن کیا جا سکے۔”

