تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے مگر یہاں ایک ہی ہاتھ تھپڑ مار رہا ہے: مولانا فضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمان کے اندر ایک مشترکہ اپوزیشن تشکیل دینے پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم مذاکرات کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور ’میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے۔‘
ملک میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ دو صوبوں میں ’حالتِ جنگ‘ جیسی کیفیت ہے، حکومتی رِٹ چیلنج ہو رہی ہے اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران شدت پسندی کے خلاف متعدد آپریشن کیے گئے، تاہم ان کے بقول امن و امان کے قیام، حکومتی رِٹ کے استحکام اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں کامیابی نظر نہیں آ رہی۔
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کے باعث معیشت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ خصوصاً قبائلی علاقوں کے تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر تجارت بند ہے اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ملک کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
فضل الرحمٰن نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مطالبات سننے کے بجائے ان سے مذاکرات نہیں کیے جا رہے، جس کے نتیجے میں حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اپوزیشن عوام تک اپنا مؤقف اور ’حقائق‘ پہنچائے گی، جبکہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ جماعتوں سے مشاورت کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل اور فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔

