بھارتی شہری پر 79 ملین ڈالر کے میڈی کیئر اور میڈی کیڈ فراڈ کا الزام
واشنگٹن: امریکی عدالتی دستاویزات کے مطابق 34 سالہ بھارتی شہری عثمان سید، المعروف سید عثمان پر میڈی کیئر اور ٹیکساس میڈی کیڈ کو 79 ملین ڈالر سے زائد کے مبینہ فراڈ کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق عثمان سید نے BioDX Labs LLC کے ذریعے سانس کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے کیے جانے والے Respiratory Pathogen Panel (RPP) ٹیسٹس کی مد میں میڈی کیئر اور میڈی کیڈ کو 79 ملین ڈالر سے زائد کے کلیمز جمع کرائے۔ حکام کا الزام ہے کہ ان میں متعدد ٹیسٹ کیے ہی نہیں گئے تھے یا طبی طور پر ان کی ضرورت نہیں تھی۔
استغاثہ کے مطابق عثمان سید نے ایک ڈاکٹر کی ذاتی شناختی معلومات مبینہ طور پر اس کی اجازت اور علم کے بغیر استعمال کیں اور مریضوں کے نام پر لاکھوں ڈالر کے کلیمز جمع کرائے۔ مذکورہ ڈاکٹر کا ان مریضوں سے کوئی سابقہ تعلق نہیں تھا، نہ ہی وہ ان کا سانس کی بیماریوں کے لیے علاج کر رہا تھا۔
عدالتی دستاویزات میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ BioDX کی جانب سے ٹیسٹ نہ کیے جانے کو چھپانے کے لیے یہ غلط ظاہر کیا گیا کہ ٹیسٹنگ کے لیے دیگر ریفرنس لیبارٹریز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔
حکام کے مطابق عثمان سید اور اس کے مبینہ ساتھیوں نے فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو بیرونِ ملک منتقل کرکے منی لانڈرنگ بھی کی۔ بڑی رقوم چین، ہانگ کانگ، ترکی، یونان اور سوئٹزرلینڈ میں موجود بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جانے کا الزام ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق عثمان سید کے بارے میں خیال ہے کہ وہ جنوری 2024 میں زمینی سرحد کے راستے امریکا سے فرار ہوا اور بعد میں کینیڈا کے وینکوور انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بیرونِ ملک روانہ ہوگیا۔
عثمان سید کے خلاف عائد الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور قانون کے تحت جرم ثابت ہونے تک اسے بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

