مبینہ قتل کے بعد پولیس تفتیش، حنا جاوید کے خاندان کے بیان میں کیا کہا گیا؟
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز کے علاقے لالکرتی میں 45 سالہ خاتون کے مبینہ قتل کا مقدمہ ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم کے خلاف درج کرنے کے بعد مقتولہ کے خاندان نے جاری کیے بیان میں سُسر کی گرفتاری نہ ہونے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
راولپنڈی سے 21 اگست 2026 کی رات جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’دو دن پہلے، ہماری پیاری حنا جاوید کو ہم سے چھین لیا گیا۔ اسے اس کے اپنے گھر میں قتل کیا گیا، اور اس کے شوہر کو ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ الفاظ اس نقصان کو بیان نہیں کر سکتے جو اس کے خاندان کو پہنچا ہے۔ حنا ایک بیٹی، ایک بہن، اور ایک دوست تھی — ایک ایسی جوان عورت جس کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی، اپنے منصوبوں، امنگوں اور ایک ایسے مستقبل کے ساتھ جس کی وہ حقدار تھی۔
ہمیں جو محبت اور تعاون ملا ہے، ہم اس کے لیے شکر گزار ہیں۔ ہم درخواست کرتے ہیں کہ حنا کو صرف اس کے مارے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے لیے یاد رکھا جائے کہ وہ کون تھی۔‘
بیان کے مطابق ’خاندان پاکستان کے قانونی اور عدالتی نظام پر کامل اعتماد رکھتا ہے اور اسے پورا یقین ہے کہ انصاف غالب آئے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آنے والے دن بہت اہم ہیں۔ تحقیقات کی شفافیت اور ایمانداری ہی یہ طے کرے گی کہ آیا حنا کو وہ انصاف ملتا ہے جس کی وہ حقدار ہے۔
ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ حنا کے سسر، جن کے بارے میں خاندان کا ماننا ہے کہ وہ اس کے قتل میں ملوث ہیں، کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں بغیر کسی مزید تاخیر کے تحویل میں لیا جائے اور ان کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ جس شخص نے بھی اس جرم میں مدد کی، اسے چھپایا، یا اس میں حصہ لیا، اسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جزوی احتساب کوئی احتساب نہیں ہوتا-‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پنجاب پولیس اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ، کسی بھی اثر و رسوخ، دباؤ یا تاخیر کے بغیر کی جائیں۔ ہم میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ بیدار رہیں اور اس کیس کا اس کے اختتام تک قریب سے جائزہ لیں۔ حنا کا کیس ایسی فائل نہیں بننا چاہیے جو عوامی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمارے گھروں میں خواتین پر تشدد کوئی ذاتی معاملہ نہیں۔ یہ ایک جرم ہے، اور اس کو جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک حنا کی موت کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق مکمل طور پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔ ہم آپ کی دعاؤں، آپ کی توجہ اور آپ کی یکجہتی کے طالب ہیں۔‘
قتل کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی۔ مقتولہ کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق لاش کے منہ سے خون اور جھاگ نکلنے کے آثار بھی پائے گئے۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

