’ہماری ساکھ ہے‘، یونیورسٹی میں فائرنگ کرنے والا کرنل ملٹری پولیس کے حوالے
اسلام آباد کی یونیورسٹی میں فائرنگ کرنے والے فوجی افسر کو پولیس نے تحویل میں لینے کے بعد ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
روات کے علاقے میں واقع سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک فوجی افسر کی فائرنگ کی ویڈیو پاکستان میں سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کرنے والا باوردی شخص فوج میں کرنل کے عہدے پر ہے اور اُس کی اہلیہ سرحد یونیورسٹی میں ہیومن ریسورس شعبے کی سربراہ یا مینیجر ہیں۔
وائرل ویڈیو میں احتجاج کرنے والی طالبات الزام عائد کر رہی ہیں کہ ہیلتھ سائنسز کے شعبے کے سربراہ جدون کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ طلبہ اُن کی حمایت میں کیمپس کے اندر مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ایک طالبہ نے الزام لگایا کہ ایچ آر کی سربراہ نے اُن کے شعبے کے ہیڈ کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے اُن کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا ہے۔
طالبات کا الزام ہے کہ ایچ آر مینیجر نے دھمکی تھی کہ ایف آئی آر اُس وقت واپس لی جائے گی جب ہیلتھ سائنسز کے شعبے کے سربراہ مسٹر جدون استعفیٰ دیں گے۔
ایک طالبہ نے احتجاج کے دوران بتایا کہ اُن کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بہت اچھے انسان ہیں اور اُن کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اس لیے وہ کلاسز سے باہر نکلے ہیں۔
طالبہ کے مطابق یہ معاملہ ایک ماہ سے چل رہا ہے۔
بعد ازاں اسلام آباد پولیس کے کیپٹن حمزہ نامی افسر نے احتجاجی طلبہ سے میگافون کے ذریعے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج کے قانون کو جانتے ہیں، بہت سخت قانون ہے، جس فوجی افسر نے وردی میں آ کر فائرنگ کی اُس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
پولیس افسر کے الفاظ تھے کہ ’اتنی کریڈیبلٹی (ساکھ) الحمدللہ ہماری ہے جو بات کریں وہ پوری کریں۔ ہم یہاں اس لیے آئے ہیں کہ نہتے، بیچارے معصوم بچوں پر فائرنگ کی کال تھی۔ جس مرضی شخص نے فائر کیا، وہ وردی میں تھا، سروس میں تھا، بریگیڈیئر تھا، مجھے اس کا نام نہیں پتا۔ ہم فوج کے قانون کو جانتے ہیں، وہ انتہائی سخت قانون ہے۔ وہ ہمارے سے پہلے ایکٹیویٹ ہونے کے لیے تیار ہیں جس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہ قانون ہر افسر پر آرمی ایکٹ کے تحت لاگو بھی ہوتا ہے۔ ملوث افسر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، یہ آپ کو حمزہ ہمایوں کی گارنٹی ہے۔ ‘

