اہم

عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں، دنیائے کرکٹ کے 21 سابق کپتانوں کا خط

اگست 24, 2026

عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں، دنیائے کرکٹ کے 21 سابق کپتانوں کا خط

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دنیائے کرکٹ کے 21 سابق کپتانوں نے ایک خط کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ ’عمران خان کو بغیر کسی تاخیر کے طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اُن کی آنکھ کا علاج کیا جائے اور اہلخانہ کو ہر ہفتے اُن سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے نام سابق کپتانوں کے لکھے گئے خط میں ایک بار پھر حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرے۔

عمران خان کے دوست سمجھے جانے والے سابق کپتانوں نے پاکستان کی حکومت کے نام اس سے قبل رواں‌ سال فروری میں‌ بھی اسی طرح کا ایک خط لکھا تھا۔
اُس خط میں 14 سابق کپتانوں نے عمران خان کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کہا تھا۔

سابق کپتانوں کی جانب سے لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو عمران خان ​​کی صحت، اور خاص طور پر ان کی دائیں آنکھ کی بینائی جانے کی اطلاعات کا ’مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔‘

جن سابق کھلاڑیوں نے پاکستان کے وزیراعظم کے نام خط لکھا ہے ان میں انڈین کرکٹ کے تین بڑے نام سنیل گواسکر، کپل دیو اور دلیپ وینگسرکر شامل ہیں۔

خط لکھنے والوں میں دیگر سابق کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے مائیک اتھرٹن، گریگ چیپل، این چیپل، ارجونا رانا ٹونگا، لی جرمون، ایلن بارڈر، ناصر حسین، ایلسٹر کک، اینڈریو سٹراس، سٹیو وا، ڈیوڈ گاور، جان رائٹ اور سر کلائیو لائیڈ بھی شامل ہیں۔

خط میں تین مطالبات کیے گئے ہیں جن میں عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد، اہل خانہ کی ملاقاتوں کی اجازت اور طبی معائنے کے مطابق علاج شامل ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سیاست دان نہیں ہیں، ہم صرف سابق کولیگ کے طور پر ایک خط لکھ رہے ہیں، جنھوں نے کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے ساتھ وقت گزارا ہے اور یہ ایک ایسا کھیل ہے جو سرحدوں اور نظریات سے ہٹ کر لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔‘

خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک آزادانہ میڈیکل بورڈ کے ذریعے عمران خان کے طبی معائنے کا حکم دیا تھا ’لیکن ہماری اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس سرکاری ڈاکٹرز کی ٹیم نے اُن کا معائنہ کر کے اُنھیں فِٹ قرار دے دیا۔‘

عدالتی حکم کے بعد عمران خان کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں اُن کے طبی معائنے کے بعد اُنھیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، لیکن حکومت نے اُنھیں پمز لانے کی یہ دلیل پیش کی تھی کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا ہسپتال کے راستے اور باہر پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اُنھیں شفا ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔

حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پمز میں طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے