اہم خبریں

شیعہ اور کُرد مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنے کی ڈیڈلائن، عراقی حکومت کا اعلان

اگست 24, 2026

شیعہ اور کُرد مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنے کی ڈیڈلائن، عراقی حکومت کا اعلان

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے اعلان کیا ہے کہ 30 ستمبر کو بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کے بعد حکومت مسلح گروہوں کے پاس موجود ہتھیار مرحلہ وار اپنے کنٹرول میں لینے کا عمل شروع کرے گی۔

انھوں نے اس اقدام کو عراق کے لیے ایک حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی۔‘

قاسم الاعرجی نے اتوار کو عراقی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ’حکومت سیاسی جماعتوں اور پاپولر موبلائزیشن فورسز (الحشد الشعبی) کے یونٹس کے درمیان تعلقات ختم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے، جبکہ اس حوالے سے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔‘

ان کے مطابق ’ان گروہوں کے ہتھیار حکومت کے زیرِ استعمال ہوں گے اور انھیں کسی غیر ملکی فریق کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام سیاسی دھارے اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ اور امن سے متعلق فیصلے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔‘

ایران نواز بعض مسلح گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ بھی شامل ہے، نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ان گروہوں نے ہتھیار ڈالنے کو امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا سے مشروط کیا ہے۔ انھوں نے شمالی عراق سے ترک افواج کے انخلا اور پیشمرگہ فورسز کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی پیشگی شرط کے طور پر کیا ہے۔

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر نے زور دے کر کہا کہ ’حکومت کے لیے فوجی محاذ آرائی ایک ’ریڈ لائن‘ ہے، تاہم بغداد پاپولر موبلائزیشن فورسز کے جنگجوؤں کے حقوق کی ضمانت دے گا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے