اہم خبریں

’ڈی میرٹ پوائنٹ‘، کولمبو ٹیسٹ میں ’ٹکراؤ‘ پر انڈین اور سری لنکا کھلاڑیوں پر جرمانے

اگست 24, 2026

’ڈی میرٹ پوائنٹ‘، کولمبو ٹیسٹ میں ’ٹکراؤ‘ پر انڈین اور سری لنکا کھلاڑیوں پر جرمانے

کولمبو ٹیسٹ کے دوران میدان میں تلخ کلامی اور آمنے سامنے ٹکر مارنے کے انداز میں‌ کھڑے ہونے پر انڈیا اور سری لنکا کے کھلاڑیوں کو میچ فیس کا 25، 25 فیصد جرمانہ کیا گیا ہے-

آئی سی سی کے مطابق کولمبو میں سری لنکا اور بھارت کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز ’نامناسب جسمانی رابطے’ (inappropriate physical contact) پر یشسوی جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو، دونوں پر ان کی میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

دونوں کھلاڑیوں کے تادیبی ریکارڈ میں ایک ایک ‘ڈی میرٹ پوائنٹ‘ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ، جسے آئی سی سی کے بیان میں ’آمنے سامنے کی تلخ صورتحال‘ (confrontation) قرار دیا گیا، اس وقت پیش آیا جب اسیتھا نے کھیل کے پہلے دن صبح کے سیشن میں 17ویں اوور کی آخری گیند پر جیسوال کو آؤٹ کیا۔
جیسوال ڈریسنگ روم کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک انہوں نے اپنا رخ بدلا اور اسیتھا کی جانب بڑھے؛ بظاہر ایسا سری لنکن کھلاڑیوں کے اس گروہ (huddle) کی طرف سے کہے گئے الفاظ کے ردعمل میں ہوا جو وکٹ گرنے کا جشن منا رہا تھا اور جس میں اسیتھا مرکزی کردار تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘جیسوال فرنینڈو کی طرف بڑھے اور دونوں کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد فرنینڈو نے اپنا سر جیسوال کی طرف بڑھایا۔ اس کے جواب میں جیسوال آگے جھکے، جس کے نتیجے میں ان کے سر آپس میں ٹکرا گئے۔’

تاہم، ٹی وی فوٹیج سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جسمانی رابطے کی ابتدا جیسوال نے کی، جو غالباً اسیتھا کے کہے گئے الفاظ کا ردعمل تھا۔ جیسوال مڑے اور اسیتھا کی طرف بڑھے، جنہوں نے خود بھی آؤٹ ہونے والے بلے باز کی جانب ایک چھوٹا سا قدم بڑھایا۔ اسی لمحے جیسوال نے ہیلمٹ پہنا ہوا اپنا سر اسیتھا کی طرف جھکایا، اور اسیتھا اس لمحے پیچھے نہیں ہٹے۔

دونوں کھلاڑیوں کے اس رویے کو کھلاڑیوں اور کھلاڑیوں کے معاون عملے کے لیے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی شق 2.12 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اتوار سے قبل کے 24 ماہ کے عرصے میں نہ تو جیسوال اور نہ ہی اسیتھا نے ایسا کوئی جرم کیا تھا جس پر ڈی میرٹ پوائنٹ ملا ہو۔

جیسوال نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر ناقدین کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ آپ لوگوں نے نہیں‌ معلوم انہوں‌ نے کیا کہا تھا جو مجھے اس پر ردعمل دینا پڑا-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے