پنڈ دادنخان کی 136 سالہ تاریخی محکمہ مال کی عمارت حکومتی توجہ کی منتظر
ملک محمد رمضان
پنڈ دادنخان کے قلب میں واقع محکمہ مال کی برطانوی دور کی تاریخی عمارت اپنی خوبصورتی، پائیداری اور شاندار سنگ تراشی کے باعث آج بھی فنِ تعمیر کا بے مثال شاہکار ہے۔
سنہ 1890 میں سفید تراشیدہ پتھروں سے بنائی جانے والی اس عمارت میں تقریباً دو درجن کشادہ کمرے، ان کے آگے کھلے برآمدے، اور الگ سے عدالتیں قائم تھیں۔
ماضی میں یہ عمارت پنڈ دادنخان کی مرکزی معاشی اور انتظامی نبض ہوا کرتی تھی، جہاں تحصیل دار، نائب تحصیل دار اور پٹواری تحصیل بھر کی زمینوں کے ریکارڈ اور اندراج کے لیے بیٹھتے تھے۔
سائلین کے بیٹھنے کے برآمدے، ملزمان کی حوالات، اور سٹامپ پیپرز کے اجراء کے مناظر اس جگہ کی گہما گہمی کا پتہ دیتے تھے، اب اس عمارت پر بوسیدگی طاری ہے اور یہاں کی ویرانی ہر ایک منظر کو اداسی میں بدل دیتی ہے-
پنڈ دادنخان—جسے راجہ دادن خان کھوکھر نے آباد کیا تھا—تقسیمِ ہند سے قبل ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کا ایک پررونق تجارتی مرکز تھا۔
یہ شہر چھوٹے کارخانوں اور زرعی زمینوں کی وجہ سے مشہور رہا ہے اور آج بھی اس کی قدیم گلیاں ہندو مندروں کے آثار سنبھالے ہوئے ہیں۔
محکمہ مال کی اس تاریخی بلڈنگ کے بالکل قریب قائداعظم محمد علی جناح کے معتمدِ خاص، مرکزی وزیر اور ایران میں پاکستان کے پہلے سفیر راجہ غضنفر علی خان کا مزار بھی واقع ہے، جو اس خطے کی تاریخی اہمیت کو دوچند کرتا ہے۔
موجودہ حالت اور انتظامیہ کا مؤقف
طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اس عمارت کا قائم رہنا اس کے مضبوط اور بے مثال طرزِ تعمیر کا ثبوت ہے۔
انتظامی نقطہ نظر سے نائب تحصیلدار ذوالفقار علی بھٹی کا کہنا ہے کہ یہ عمارت بلاشبہ فنِ تعمیر کا نایاب نمونہ ہے۔ ان کے مطابق اے ڈی آر (ADR) ڈاکٹر وقار نے اس عمارت کا خصوصی دورہ کیا تھا اور اس کی مرمت کے بعد اسے گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس عمارت کو محفوظ بنانے اور اس کی بحالی کے لیے انتظامی سطح پر میٹنگز کا سلسلہ جاری ہے۔
پیشکش اور تجاویز
محکمہ آثارِ قدیمہ اور حکومتِ پنجاب اگر اس عمارت پر فوری توجہ دیں تو معمولی مرمت کے بعد اسے ایک یادگار کے طور پر محفوظ کیا جا سکتا ہے- عمارت کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے سپرد کر کے سیاحوں کے لیے بحال کیے جانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
سرکاری گیسٹ ہاؤس
اس عمارت کے کشادہ کمروں اور ملحقہ بہترین حالت میں موجود رہائش گاہوں کو سرکاری یا سیاحتی گیسٹ ہاؤس کا درجہ دیا جائے تو یہاں کی رونقیں بحال کی جا سکتی ہیں۔
پنڈ دادنخان کی تاریخ، ہندو-سکھ تاریخ اور راجہ غضنفر علی خان کھوکھر سے وابستہ یادگاروں کو محفوظ کرنے کے لیے یہاں ایک میوزیم بنایا جا سکتا ہے۔
یہ عمارت محض پتھروں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ہمارے خطے کی تاریخ اور تہذیب کا عکس ہے، جسے محفوظ بنانا آئندہ نسلوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

