اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی اموات، سیکریٹری صحت معطل
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کمیٹی کے سربراہ ہوں گے دیگر ممبران میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نبیل اعوان شامل ہیں۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ بھڑکنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ اور امدادی سرگرمیوں میں فائر برگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے حصہ لیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پر فی الفور قابو پاتے ہوئے بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا۔
انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ واقعہ کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔
قبل ازیں پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے بتایا تھا کہ آگ ایئر کنڈشن یونٹ میں لگی اور آکسیجن کے کنکشنز کے باعث آگ فوراً بھڑک اٹھی۔
ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت وارڈ میں 15 بچے داخل تھے۔
ہسپتال کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ آگ چھ بج کر 45 منٹ پر چلڈرن وارڈ میں آگ لگی۔
چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ موقع پر پہنچے اور پولیس کے ذریعے میڈیا کو جائے حادثہ پر جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جن خاندانوں کے بچے اس واقعہ میں ہلاک ہوئے ہیں وہ جائے وقوعہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کے خاندان والے اپنے نومولود بچوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور 14 نومود بچے مکمل طور پر جھلس چکے ہیں اور بنا بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے ان کی شناخت ممکن نہیں۔
پولیس کے بقول اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔
پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وارڈ کا دروازہ بند تھا۔
عمران سکندر نے میڈیا کو بتایا کہ دروازہ پر تالا نہیں لگا ہوا تھا بلکہ وہاں عملہ موجود تھا۔
ان کے مطابق یہ انتظام بچوں کو وارڈ سے چوری ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ ماضی میں سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے چوری کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
عمران سکندر نے واضح کیا کہ ہسپتال میں آگ بجھانے کے لیے پانی کا انتظام نہیں بلکہ وہاں آگ بجھانے والے سلینڈر رکھے گئے تھے۔
ان کے مطابق آج آگ بجھانے کی کوشش کے دوران 24 سلینڈر استعمال کیے گئے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ گیس کی لائنز اور پلاسٹک انسٹرومنٹ کی وجہ سے آگ پھیلی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت دو ڈاکٹرز، نرس اور عملہ موجود تھا جو واقعے میں محفوظ رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آگ کی وجہ کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکتا، کرائم سین کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ جیسے بھی ہوا آکسیجن سپلائی کی وجہ سے آگ پھیلی ہے۔
�
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ذمہ دآران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔