پمز ہسپتال میں آگ ’بہت تیزی سے‘ پھیلی، مدد دیر سے پہنچی: عینی شاہدین
پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ آگ ’بہت تیزی سے‘ پھیلی جبکہ امدادی کارکنوں نے ردعمل میں تاخیر کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک عینی شاہد خرم محمود نے بتایا کہ انھوں نے آتشزدگی میں اپنی تین دن کی بیٹی کو کھو دیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ گئے: ’ہم مدد کے انتظار میں سڑک پر بیٹھے تھے۔‘
ایک اور عینی شاہد عبدالغفور نے کہا کہ آگ ’بہت تیزی سے‘ پھیلی تھی۔
انھوں نے کہا کہ وہ مریضوں کو بچانے میں مدد کی غرض سے ہسپتال کے اندر گئے، لیکن زچگی وارڈ تک نہیں پہنچ سکے: ’اندر گھنا سیاہ دھواں تھا اور مریض پھنسے ہوئے تھے، امدادی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچیں۔‘
غم سے نڈھال والدین ہسپتال کے باہر جمع ہوئے اور مرنے والے بچوں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر پہلے حکام کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔ تاہم ورثا کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے پمز کے دورے میں بتایا کہ لاشیں حوالے کر دی گئی ہیں-
اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ صبح چھ بجے سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان لگی تھی۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ وارڈ میں لگی۔ اطلاعات کے مطابق آگ ایک ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور وارڈ میں آکسیجن کی لائنوں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جسے 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر ’گہرے دُکھ اور دلی افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔

