ناکامی کے خوف کا شکار پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز ہار گئی، عباس اور سعود لڑتے دکھائی دیے
لارڈز ٹیسٹ بھی پاکستان کی شکست اور انگلینڈ کی سیریز میں جیت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا مگر یہ کئی حوالوں سے تاریخ کا حصہ بن گیا-
میچ کے آغاز میں ہی پاکستانی اوپنر امام الحق کا اَن فٹ ہو جانا اور کسی ایک اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے نہ آنا اور سوشل میڈیا پر یہ بحث کہ انہوں نے جب پِچ پر گھاس دیکھی تو بہانہ کیا اور وہ اپنے کیریئر میں پہلے بھی ایسا کرتے ہیں-
سابق انگلش فاسٹ بولر سٹیورٹ براڈ کا کمنٹری کے دوران امام الحق کے بارے میں تبصرہ اور یہ کہنا کہ ہارنے یا ناکام ہونے کے خوف سے نہ کھیلنا کوئی اچھا رویہ نہیں-
بابر اعظم کا ایک انتہائی احمقانہ شاٹ جس کی وجہ سے وہ اب ہیڈلائنز میں ہیں اور شائقین و مبصرین پوچھ رہے کہ وہ کیا سوچ کر کھیل رہے تھے- جوفرا آرچر جیسے تیز گیند باز کے اوپر اُٹھتی گیند پر جس قسم کا شاٹ کھیلنے کے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان گئے، وہ اُن کے عالمی سطح کے بلے باز ہونے پر سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو گیا ہے-
ٹاس جیت کر پہلے انگلینڈ کو کھیلنے کی دعوت دینا بھی ایسا فیصلہ رہا جس کو شکست خوردہ ذہنیت اگر نہ کہا جائے تو خوفزدہ تو بہرحال سمجھا ہی جائے گا مگر پھر چوتھی اننگز بھی تو کھیلنا تھی-
انگلینڈ کے خلاف سیریز کے اس دوسرے ٹیسٹ میچ میں اگر کچھ مثبت رہا تو وہ انگلش کرکٹ ٹیم کی پہلی اننگز کے دوران متبادل کھلاڑی سلمان آغا کا سلپ میں فُل لینتھ ڈائیو کے ساتھ کیچ، محمد عباس کی شاندار بولنگ میں پانچ وکٹیں اور سعود شکیل کی دوسری اننگز میں شاندار 97 رنز-
ایک بے خوف بلے بازی کرتے ہوئے 122 گیندوں پر 13 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے تیز رفتاری کے ساتھ 97 رنز جوڑ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ پِچ اتنی بھی مشکل نہ تھی اور اگر تھی تو اس طرح کا جارحانہ انداز اختیار کر کے چانس لیا جا سکتا تھا- بدقسمتی سے سعود شکیل سینچری سکور نہ کر سکے مگر یہ اُن کے کیریئر کی ایک یادگار اننگز ضرور رہے گی-
محمد عباس کے لیے بھی یہ ٹیسٹ کارکردگی کے لحاظ سے شاندار رہا کہ جہاں پاکستان کے پیس اٹیک کی سپیڈ یعنی رفتار منفی انداز میں زیربحث رہی وہیں اُن کی لائن و لینتھ نہایت مثبت الفاظ کے ساتھ یاد کی گئی- عباس نے میچ میں 9 وکٹیں حاصل کیں- یہ انگلش کنڈیشنز میں اُن کی کاؤنٹی کرکٹ کی وجہ سے ممکن ہوا-
کپتان بابر اعظم پہلے میچ میں نہ کھیل پائے تھے تو دوسرے میچ میں وہ وکٹ پر زیادہ دیر نظر ہی نہ آئے- پہلی اننگز میں 10 گیندوں پر 8 اور دوسری اننگز میں 8 گیندوں پر چھ رنز سکور کر پائے- اس طرح وہ اس پورے ٹیسٹ میچ میں صرف تین اوورز یعنی کل 18 گیندوں پر دو بار آؤٹ ہوئے-
پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں صرف 110 رنز بنا پائی تھی جبکہ دوسری اننگز میں سعود شکیل کے 97 رنز کی بدولت 194 رنز بنا پائی اور یوں انگلینڈ کی جیت کا مارجن بھی 194 رنز ہی رہا-
پہلے ٹیسٹ میچ کے مقابلے میں لارڈز کی شکست کا مارجن کم رہا جہاں ایک اننگز اور 103 رنز کی بدترین ہزیمت اُٹھانا پڑی تھی-

