معاشرے کے اجتماعی باؤلے پن کا کیا کریں، علی ارقم کا کالم
عجیب طرح کا میلٹ ڈاؤن (Meltdown) ہے، شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب تشدد، بے حسی یا اخلاقی زوال کی دل دہلا نہ دینے والی کوئی خبر نہ ملتی ہو
کبھی غیرت کے نام پر قتل، کہیں ازدواجی تعلق کا قتل کی صورت خاتمہ، کبھی کسی معصوم بچے یا بچی کو درندگی کا نشانہ بنا کر پھینک دیا جانا، تو کبھی چھوٹی چھوٹی بات پر گلی محلے میں خون بہا دینا۔
ان سب کے اوپر، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا وہ رویہ جہاں جبری گمشدگی سزا کی ایک صورت ہے اور ‘انصاف’ عدالتوں کے بجائے ماورائے عدالت قتل (Extrajudicial Killings) کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے، کبھی بلوچستان میں سیاسی کارکن اٹھائے جاتے ہیں، تو کہیں انگور کے ٹرک لاد کے لے جانے والے ڈرائیورز ان کی زبان و قومیت کی بنیاد پر قتل ہوتے ہیں، یہ سب نہیں تو انتظامی غفلت کسی سانحے کا سبب بن جاتی ہے۔ ان سب واقعات کی رفتار اور تسلسل دیکھ کر لگتا ہے کہ سوسائٹی ایک اجتماعی باؤلے پن کا شکار ہو چکی ہے۔
اس اجتماعی باؤلے پن کا مظاہرہ سوشل میڈیا پر بھی نظر آتا ہے۔ وہاں ان سانحات کی تہہ میں جانے، ان کے اسباب پر بات کرنے یا متاثرین کی تکلیف کو محسوس کرنے کا کلچر نہیں ہے۔ اس کے برعکس، ہر سانحہ سیاسی الزام تراشی، الزامات کی بوچھاڑ اور گالم گلوچ، طیش و غضب کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایک مصنوعی اور کھوکھلا ماحول قائم ہے، جہاں کسی المیے پر افسوس کا ایک جملہ لکھ دینا، ری ٹویٹ کر دینا یا ایک لائک دبا دینا ہی لوگوں کے نزدیک اپنا فرض ادا کر دینا ہے، جہاں صرف وائرلٹی (Virality) کی قیمت ہے۔
قدیم یونانی فلسفہ (Greek Philosophy) غصے کے انفرادی اور اجتماعی اظہار کو محض ایک وقتی جذباتی ردِعمل نہیں، بلکہ عارضی پاگل پن (Brevis Insania) سے تعبیر کرتا تھا، جس کی انہوں نے انسان اور معاشرے کی مختلف حالتوں کے مطابق الگ الگ اقسام بیان کی تھیں۔
جیسے مینس (Menis): یہ غصے کی وہ سرفہرست اور متکبرانہ صورت ہے جو دیو مالائی، تباہ کن اور اجتماعی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ہومر کی الیڈ کا آغاز اسی لفظ سے ہوتا ہے۔ یہ ایسا ناگوار، انتقامی اور جنونی غصہ ہے جو ایک بار بھڑک جائے تو پورے کے پورے سماج کو لپیٹ میں لے لیتا ہے اور جس کے نتیجے میں عظیم تباہی پھیلتی ہے، جیسے ریاست اور اس کے کرتا دھرتا اداروں اور افراد کا غصہ اور منتقمانہ رویہ۔
تھاموس (Thymos): یہ انسانی نفس کے اندر سے اچانک اٹھے والے طیش، غیرت یا جذبے کی وہ صورت ہے جو سیکنڈوں میں بھڑکتی ہے۔ یہ ایسا اشتعال ہے جو لمحوں میں انسان سے عقل سلب کر لیتا ہے اور اسے کسی سوچے سمجھے بغیر فوری شدید ردِعمل پر مجبور کر دیتا ہے، معمولی تکرار اور طیش میں تشدد، جرم یا قتل کا ارتکاب۔
اورگے (Orge): یہ غصے کا وہ اندر پلنے والا زہر یعنی جوالا مکھ جو اچانک باہر نہیں آتا، بلکہ اندر ہی اندر دھیرے دھیرے پکتا ہے۔
ارسطو کے مطابق یہ کسی ناانصافی یا تحقیر کے بدلے میں مسلسل انتقام کی خواہش کا نام ہے۔ یہ ایسا باطن میں رسا ہوا غصہ ہے جو انسان کے رویے اور سوچ کا حصہ بن کر مستقل مزاج کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جیسے موب وائلنس یا جلاؤ گھیراؤ۔
چولوس (Cholos): یہ وہ تلخ اور زہریلا غصہ ہے جس کا تعلق جسمانی ہیجان اور گھبراہٹ سے جوڑا جاتا تھا۔ یہ شدید، تلخ اور غلیظ قسم کی برہمی ہے جو انسان کے اندر نفرت بھر دیتی ہے اور اسے دشمنی پر اکساتی ہے، جنسی جرائم پر اکسانے والا غصہ، انسل (Incel calibate)
کوتوس (Kotos): یہ ایک ایسا چھپا ہوا، طویل المیعاد بغض اور کینہ ہے جو برسرِعام ظاہر نہیں ہوتا بلکہ دل کی گہرائیوں میں چھپ کر مناسب موقع کا انتظار کرتا ہے تاکہ وقت آنے پر وار کیا جا سکے-
ہومر سے لے کر افلاطون اور ارسطو تک، یونانیوں کا ماننا تھا کہ جب مینس، تھاموس اور اورگے جیسے غصے انفرادی حد سے نکل کر معاشرے کا مزاج بن جائیں تو انسان عقلِ سلیم سے محروم ہو جاتا ہے-
آج ہمارے اجتماعی وجود میں یہی یونانی اصطلاحات جیتی جاگتی حقیقت بن کر سرایت کر چکی ہیں-
جدید عمرانیات (Sociology) اور نفسیات (Psychology) کہتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں قوانین کا احترام ختم ہو جائے، انصاف کے ادارے اپنی افادیت کھو دیں اور طاقتور کو استثنیٰ (Impunity) حاصل ہو جائے، تو وہاں کا ہر فرد ایک عجیب سے سنسنی خیز اور غیر یقینی ماحول میں جینے لگتا ہے-
نفسیاتی طور پر، جب ایک انسان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں ہے، تو عقل، تدبر، صبر اور ہمدردی کا جذبہ تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، اور تمام رویے محض خوف، غصے اور فوری ردِعمل کے تابع ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس وبائی باؤلے پن سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ کیا کوئی ایسا گرینڈ ری سیٹ (Grand Reset) ممکن ہے جو اس بگڑتے ہوئے دھارے کو موڑ سکے؟
یہ ری سیٹ کسی معجزے، سیاسی تقریر یا ایک رات کے فیصلے سے ممکن نہیں ہوگا۔ اس باؤلے پن کی آبیاری میں سوشل میڈیا کی اس زہریلی دنیا کا بڑا ہاتھ ہے، اس لیے ان رجحانات اور ٹرینڈز سے دور رہیں، جہاں نفرت اور ہیجان کو بیچا جاتا ہے۔
کسی بھی خبر پر فوراً چیخنے اور الزامات لگانے کے بجائے، سوچنے کا وقفہ پیدا کریں، ہمدردی کو سیاسی یا جغرافیائی وابستگیوں سے آزاد کر کے، مظلوم کے ساتھ صرف انسان ہونے کی ناطے کھڑا ہونا سیکھیں۔
سماجی سطح پر ورچوئل دنیا کے ہیجان کو چھوڑ کر حقیقی دنیا میں انسانی رابطہ بحال کرنے پر توجہ دیں، کیونکہ جب تک گلی محلے، سماجی اور تعلیمی ادارے جذبات پر قابو پانے (Emotional Intelligence) کی تربیت نہیں دیں گے، غصے کی یہ آگ ٹھنڈی نہیں ہوگی۔
سب سے بڑھ کر ریاستی سطح پر قانون کی حکمرانی ہی وہ واحد بنیادی شرط ہے جو عوام کے اندر سے اس باؤلے پن کو ختم کر سکتی ہے، لیکن ظاہر ہے اس پر ہمارا بس نہیں ہے۔
یہ سچ ہے کہ یہ باؤلا پن اس وقت دنیا بھر کے سماجی اور ڈیجیٹل نظاموں میں ایک وبا کی طرح پھیل چکا ہے، لیکن کوئی گرینڈ ری سیٹ ہو نہ ہو، کم سے کم اپنے اور اپنے اردگرد کے لوگوں، اپنے پیاروں کے لیے اس ہیجان کا ایندھن بننے سے انکار کر دیں، اپنے ارد گرد کی دنیا میں شمعِ عقل اور احساس و ہمدردی کو دوبارہ زندہ کرنے کی ذمہ داری اٹھائیے

