اشرافیہ کے بنائے ملک میں صرف اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ، کامران طفیل کا کالم
یہ تحریر سنہ 2024 میں تب لکھی تھی جب میں نتیجہ نکال چکا تھا کہ جی ڈی پی یا ٹیکس ٹو جی ڈی پی جتنا بھی بڑھ جائے،اس میں عوام کا کوئی حصہ نہیں ہوگا بلکہ ملٹیبلشمنٹ سے جو بچے گا اسے سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ آپس میں بانٹ لے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سنہ 2026 کی جی ڈی پی 452 ارب ڈالر ہوگئی ہے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10.7 فیصد ہی ہوسکی ہے۔
صوبوں نے مسلسل دو سال سے ٹیکس فری بجٹ دیے ہیں۔
گویا کہ دو سال میں جی ڈی پی کا اضافہ 106 ارب ڈالر ہوا ہے۔
گویا یہ اضافہ کل 23 فیصد ہوا ہے۔
جبکہ دفاعی بجٹ میں اضافہ 41 فیصد ہوا ہے۔
یہ صرف وہ اضافہ ہے جو بجٹ میں دکھایا گیا ہے۔
اسی طرح حکومت کرنے کا خرچ جو 2024 میں 839 ارب روپے تھا وہ سنہ 2026 میں 1026 ارب روپے یعنی ستائیس فیصد بڑھا ہے حالانکہ کوئی نئی وزارت بنی ہے اور نہ ہی یہ خرچ بڑھنے کا کوئی جواز سمجھ میں آتا ہے۔
یہ ملک دراصل اشرافیہ نے بنایا تھا،اشرافیہ کے لئے بنا تھا،اشرافیہ ہی اس لئے اس کے سیاسی نظام کو ہائی جیک کرکے رکھتی ہے تاکہ وسائل کا رخ ان کی طرف ہی رہے۔
اس وقت وسائل کا جو رخ صوبوں کی طرف ہے اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو آپ کے رونگٹے "بیٹھ” جائیں گے۔
آج کل ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کی ٹرم پاکستان میں بہت خجل ہو رہی ہے۔
اس میں کچھ باتیں سمجھنے کی ہیں۔
ایک تو یہ کہ اس سے مراد ڈائریکٹ ٹیکس یعنی انکم ٹیکس ہے۔
پاکستان کی جی ڈی پی دو ہزار سترہ میں 339 ارب ڈالر
دو ہزار اٹھارہ میں 356 ارب ڈالر
دو ہزار انیس میں 320 ارب ڈالر
دو ہزار بیس میں 300 ارب ڈالر
دو ہزار اکیس میں 348 ارب ڈالر
دو ہزار بائیس میں 374 ارب ڈالر
دو ہزار تئیس میں 338 ارب ڈالر
دو ہزار چوبیس میں 347 ارب ڈالر
جی ڈی پی ٹو ٹیکس ریشو
دو ہزار سترہ میں11 اعشاریہ چار فیصد
دو ہزار اٹھارہ میں میں 9 اعشاریہ نو فیصد
دو ہزار انیس میں پھر 9 اعشاریہ نو فیصد
دو ہزار بیس میں 10 اعشاریہ تین فیصد
دو ہزار اکیس میں 10 اعشاریہ تین فیصد
دو ہزار بائیس میں 8 اعشاریہ پانچ فیصد
دو ہزار تئیس میں 9 اعشاریہ دو فیصد
رہی۔
ایک نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں انکم ٹیکس صرف تین طریقے سے اکٹھا ہو رہا ہے۔
تنخواہ داروں سے، کارپوریٹ اور ایٹ سورس یعنی امپورٹ پر،
سنہ 2022 میں امپورٹ بند کر دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی بھی کم ہوگیا۔
ان میں تنخواہ دار اور ایٹ سورس والے انتہائی مجبوری کی حالت میں ٹیکس کٹواتے ہیں اور گالیاں بھی دیتے ہیں اور کارپوریٹ سیکٹر ٹیکس ادا کرنے سے پہلے پہلے تمام عیاشی کر چکا ہوتا ہے،یعنی ڈائریکٹرز کی انٹائٹلمنٹس اور ملازموں کے بونس وغیرہ کو صافی آمدن سے نکال چکا ہوتا ہے۔
پاکستان میں صرف 2.74 ملین یعنی 27 لاکھ 40 ہزار افراد ذاتی انکم ٹیکس جمع کراتے ہیں، جو کہ پاکستان میں لیبر فورس کا صرف 4.1 فیصد اور آبادی کا 1.3 فیصد ہے۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ انفرادی فائلرز میں سے 35 فیصد صفر انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں یعنی وہ قابل ٹیکس آمدنی سے نیچے آتے ہیں اور ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
سوال یہ ہے کہ محبوب الحق سے اورنگ زیب تک اس میں کوئی بہتری کیوں نہیں لا سکا تو اس کی وجوہات درج ذیل ہیں۔
1۔ایوب،یحیی،ضیا،مشرف غاصب تھے اور وہ عوام کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے اور ایوب،ضیا اور مشرف کو اس وقت دنیا کے قدیم ترین پیشے کے سہولت کار کا رول ادا کرنے پر سامراج پیسہ دے رہا تھا اور وہ اس پیسے کو عوام پر لگانے یا پیداواری شعبے کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنے حلقہ انتخاب یعنی نیو ایسٹ انڈیا کمپنی پر لگاتے رہے۔
2۔ضیا اور مشرف نے کمزور سیاسی حکومتیں بنائیں اور ان کی رٹ قائم نہ ہونے دی،اور ان کے خلاف سازشیں بھی کرواتے رہے۔
3۔جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف منتخب حکومت کے خلاف سازشیں کرتے رہے اور ان کی رٹ قائم نہ ہونے دی،اور نواز شریف،عمران خان،زرداری،بینظیر،طاہر القادری،ایم ایم اے ان کی رکھیل بنے رہے۔
4۔کسی ایک بھی سیاسی حکومت کی مدت پوری نہیں ہونے دی گئی اور ان میں پھوٹ ڈلوائے رکھی گئی اور اس کی وجہ سے وہ عوام کے ایک خاص حصے کو ناراض کرنے سے ڈرتے رہے۔
5۔جی ڈی پی کا چوبیس فیصد حصہ زراعت سے آتا ہے لیکن جاگیرداروں نے جرنیلوں کا ٹوڈی اور کبھی جمہوریت کو یرغمال بنا کر اسے لاگو نہیں ہونے دیا۔
6۔سروسز سیکٹر میں وکلا کو باقاعدہ ایک غنڈہ فورس کی طرح استعمال کر کے ان کی نیوسینس بڑھائی گئی۔
اور تابوت میں آخری کیل آٹھویں ترمیم بنی- اس کی مثال آپ اس بات سے سمجھ لیں کہ بھارت کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی گیارہ فیصد ہے جبکہ صوبے اس میں چھ فیصد اضافہ کر کے اسے اٹھارہ فیصد کر دیتے ہیں،جبکہ اٹھارہویں ترمیم نے پاکستان کے صوبوں کو نشے پر لگا دیا اور پچھلے دس پندرہ سال سے صوبے ٹیکس فری بجٹ پیش کرتے ہیں اور اس پر ڈیسک اور بغلیں بجائی جاتی ہیں۔
موجودہ حکومت ہمیشہ کی طرح ایک کمزور حکومت ہے اور ان کا تمبو بھی بس ایک بمبو پر کھڑا ہے اور وہ بمبو دراصل وہ کتا ہے جسے نکالے بنا کنویں کا پانی پاک نہیں ہو سکتا۔
سیاستدانوں کے پاس اتنی ذہنی و جذباتی صلاحیت ہے ہی نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور کسی لمبی مدت کی پلاننگ کر سکیں۔
نئی قیادت ابھرنے کے امکانات اس لئے کم ہیں کہ
تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن پراسیس کو اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ اس کلب کو متوسط طبقہ انسان جوائن نہیں کرسکتا۔
اشرافیہ بلدیاتی الیکشن کے خلاف ہے کیونکہ اس سے نئی قیادت ابھر سکتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ اپنے حصے سے سو گنا زیادہ وصول کرتی ہے اور وہ اس توازن کو بگڑنے سے روکنے کے لئے جان لڑا دے گی۔

