اہم

پمز ہسپتال میں‌ آگ کے ذمہ دار 8 افسران معطل، وزیراعظم کی فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

اگست 29, 2026

پمز ہسپتال میں‌ آگ کے ذمہ دار 8 افسران معطل، وزیراعظم کی فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 26 اگست کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز ہسپتال) میں آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پر آٹھ افسران کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں-

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق انکوائری کمیٹی، جو مذکورہ واقعے کی تحقیقات کے لیے 26 اگست کو تشکیل دی گئی تھی، نے 29 اگست 2026 کو اپنی عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی ہے۔ کمیٹی نے اب تک جمع کیے گئے حقائق، واقعے کی دستیاب ویڈیو اور اپنی عبوری سفارشات وزیر اعظم کو پیش کیں۔

بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں:
* انکوائری کمیٹی کی سفارش کے مطابق، پمز اور بیرونی اداروں کے درج ذیل افسران کو معطل کر دیا جائے اور ان کے خلاف فوری طور پر انضباطی کارروائی شروع کی جائے:
* (a) پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پمز
* (b) پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سربراہ شعبہ نیوناٹولوجی، چلڈرن ہسپتال، پمز
* (c) ڈاکٹر نغم، سینئر رجسٹرار، شعبہ نیوناٹولوجی، پمز
* (d) ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایم سی ایچ (MCH)
* (e) چوہدری وارث علی رضا، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (نان میڈیکل)، پمز
* (f) ڈاکٹر نوشیلہ امجد، ڈائریکٹر ایم سی ایچ (MCH)
* (g) ڈاکٹر عبدالرحمٰن، ڈائریکٹر جنرل، سی ای ایس (CES)، سی ڈی اے (CDA)
* (h) محمد عثمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (سیکیورٹی)
* ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی (مجرمانہ مقدمات) بھی شروع کی جائے۔

* مس نسرین، چارج نرس اور محترمہ ماریا، سکیورٹی گارڈ کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا جائے اور وہ اگلے احکامات تک کوئی ڈیوٹی سرانجام نہیں دیں گی۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کمیٹی کی جانب سے حتمی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔

* مس رضیہ، سٹاف نرس، جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر واحد زندہ بچ جانے والے بچے کو باہر نکالا، انہیں 10,000,000 روپے (ایک کروڑ روپے) کا مالی انعام دیا جائے اور مناسب سول ایوارڈ (صدارتی/قومی اعزاز) کے لیے بھی ان کی سفارش کی جائے۔

* قومی خدماتِ صحت، ضوابط و رابطہ ڈویژن (National Health Services Regulations & Coordination Division) اور پمز انتظامیہ سکیورٹی کمپنی میسرز بلفورٹ کے ساتھ معاہدے کا جائزہ لیں گی، جو بظاہر اپنی معاہداتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر مبینہ ناکامی ثابت ہو جاتی ہے تو کمپنی کے خلاف معاہدے کی شرائط کے تحت کارروائی کی جائے گی- اس کے بعد وزارت داخلہ اس کمپنی کو جاری کیے گئے لائسنس کا جائزہ لے گی-

وزیراعظم نے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے سی ای او ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز ہسپتال کا عبوری ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ فوری طور پر نئے لوگوں کو تعینات کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ’واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ عفلت سے کسی ماں سے اس کا لخت جگر جدا نہ ہو۔‘

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت سپر وائزری سٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس افسر وارڈ میں موجود تھے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا، جبکہ ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک بچے کی جان بچائی۔

رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ نیو نیٹل وارڈ میں کوئی فائر الارم یا سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا اور وارڈ میں عالمی ادارہ صحت کے اس حوالے سے تمام تر قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی۔

تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں تھا اور اس کی اضافی ذمہ داری ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو سونپی گئی تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے