نجی ہسپتال میں علاج نہیں کیا جا سکتا، اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین قیدیوں کو علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے اور بیرونِ ملک موجود اہلخانہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی اجازت دینے کے لیے دائر درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا ہے۔
پیر کو ہائیکورٹ نے عمران خان کی طرح پرائیویٹ ہسپتال میں علاج اور بیرون ملک موجود فیملی سے ٹیلی فونک گفتگو کی سہولت مانگنے والے اڈیالہ جیل میں قید تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دیں-
آخری سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین قیدیوں کو علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے اور بیرونِ ملک موجود اہلخانہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی اجازت دینے کی استدعا پر سرکاری وکلا کو سنا تھا-
جسٹس محمد آصف نے اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل کی درخواستوں پر سماعت کی تو جیل حکام کی جانب سے تینوں قیدیوں سے متعلق رپورٹس بھی عدالت میں پیش کی گئیں، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور جیل حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ ایک قیدی تھیلیسیمیا جیسی بیماری میں مبتلا ہے اور گزشتہ 6 ماہ سے جیل میں ہے، اسے متعدد مرتبہ علاج کے لیے ہسپتال لایا جاچکا ہے جبکہ بڑی آنت میں خون بہنے کے باعث اس کی جان کو خطرہ ہے، اس لیے اسے نجی ہسپتال منتقل کیا جائے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدی نے خصوصی علاج کے لیے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو درخواست دی تھی، تاہم انہیں بتایا گیا کہ جیل سے باہر صرف سرکاری ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے، جیل رولز میں ’’سول ہسپتال‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں-