اہم

سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر برقرار، بھارت یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا: عالمی ثالثی عدالت

اگست 31, 2026

سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر برقرار، بھارت یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا: عالمی ثالثی عدالت

سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع میں عالمی ثالثی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت کا اسے یکطرفہ طور پر ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کرتا۔

عدالت نے متفقہ فیصلے میں کہا کہ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو abeyance یعنی التوا میں رکھنے کے لیے پیش کی گئی وجوہات میں سے کوئی بھی بین الاقوامی قانون کے تحت معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ لہٰذا بھارت معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی ایک فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل یا ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ معاہدے میں تبدیلی یا اس کا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ایک نئے معاہدے کے ذریعے ممکن ہے۔

عدالت نے بھارت کے ان دلائل کا بھی جائزہ لیا جن میں دہشت گردی، آبادی میں تبدیلی، صاف توانائی کی بڑھتی ضروریات، ڈیم ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور موسمیاتی تبدیلی کو معاہدے کی معطلی کی ممکنہ وجوہات کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ عوامل بین الاقوامی قانون کے تحت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی مطلوبہ قانونی شرائط پوری نہیں کرتے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر اعتراضات اٹھانا اور معاہدے کے تحت دستیاب تنازعات کے حل کے طریقہ کار سے رجوع کرنا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

رتلے ہائیڈرو پاور منصوبے پر بھارت کے لیے عبوری پابندیاں

عدالت نے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ (RHEP) سے متعلق پاکستان کی عبوری اقدامات کی درخواست پر بھی اہم احکامات جاری کیے ہیں۔

عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کو حکم دیا کہ وہ رتلے ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر پر مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ کا کام نہ کرے۔ یہ پابندی نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہے گی۔ نیوٹرل ایکسپرٹ کا فیصلہ جولائی 2027 کے آس پاس متوقع ہے۔

عدالت نے بھارت کو رتلے منصوبے کے تعمیراتی شیڈول میں ہونے والی تبدیلیوں سے عدالت، نیوٹرل ایکسپرٹ اور پاکستان کو آگاہ رکھنے کا بھی حکم دیا۔

پاکستان نے مجموعی طور پر پانچ عبوری اقدامات کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے ان میں سے تین اقدامات ترمیم کے ساتھ منظور جبکہ دو مسترد کردیے۔

بھارت کی عدم شرکت کے باوجود کارروائی جاری

عدالت کے مطابق بھارت نے اس مرحلے میں تحریری یا زبانی دلائل کے ذریعے کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم عدالت نے بھارتی حکومت کے سرکاری بیانات، پاکستان اور نیوٹرل ایکسپرٹ کے ساتھ خط و کتابت اور دیگر دستیاب مواد کی بنیاد پر بھارت کے مؤقف کو مدنظر رکھا۔

پاکستان نے یہ ثالثی کارروائی اگست 2016 میں شروع کی تھی۔ تنازع بنیادی طور پر مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں، بالخصوص کشن گنگا اور رتلے منصوبوں کے ڈیزائن اور سندھ طاس معاہدے کی تشریح سے متعلق ہے۔

ثالثی عدالت کی سربراہی امریکی پروفیسر شان ڈی مرفی کر رہے ہیں جبکہ عدالت میں بیلجیم، امریکا، اردن اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور قانونی شخصیات بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے لیے Permanent Court of Arbitration (PCA) سیکریٹریٹ کے فرائض انجام دے رہی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے