Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 128

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
آئی ایس آئی کے ڈی جی سی رہنے والے میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات
Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
اہم

آئی ایس آئی کے ڈی جی سی رہنے والے میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات

ستمبر 4, 2026

آئی ایس آئی کے ڈی جی سی رہنے والے میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات

پاکستان کی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کےطور پر میجر جنرل فیصل نصیر کا تقرر کیا گیا ہے۔

سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اُن کی یہ تقرری تین سال کے لیے کی گئی ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ، جسے ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی بطور میجر جنرل اسی عہدے پر تعینات رہے تھے۔
دسمبر 2025 میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو ’سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی‘ سمیت چار الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر کا بطور نیشنل کوارڈینیٹر تقرر وفاقی حکومت کی منظوری سے کیا گیا اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گا۔

نیکٹا کا ادارہ سنہ 2008 میں وزارتِ داخلہ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا کام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی مرتب کرنا، ایکشن پلان تیار کرنا، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا اور وفاقی حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کرنا ہے۔

نیکٹا کو ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تشکیل دیے گئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔

پاکستان کے عوامی حلقوں میں میجر جنرل فیصل نصیر کا نام نیا نہیں۔

اپریل 2022 میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کامیاب عدم تحریک کے بعد اُن کی جانب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا گیا تھا اور احتجاجی جلسوں اور تقاریر کے دوران وہ میجر جنرل فیصل نصیر کا نام لے کر اُن پر تنقید کرتے رہتے تھے۔

تین نومبر 2022 کو لانگ مارچ کے دوران جب ایک قاتلانہ حملے میں عمران خان زخمی ہوئے تو انھوں نے اس حملے کا الزام جن تین شخصیات پر عائد کیا تھا اس میں سے ایک فیصل نصیر تھے۔ تاہم پاکستان کی فوج نے ایک سخت بیان جاری کر کے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ’میجر جنرل فیصل نصیر کو عہدے سے ہٹایا جائے یا ان کا تبادلہ کیا جائے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جا رہا۔

بعدازاں اپنے ایک بیان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ ’عمران خان کے ادارے اور مخصوص افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔‘

آئی ایس پی آر نے اپنی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا تھا کہ ’فوج نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ادارے اور اس کے سینیئر افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کی جائے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے