اہم خبریں

گلی میں‌ ٹیپ بال سے ٹیسٹ ڈیبیو پر انگلش کپتان کی وکٹ، رضااللہ پر سب کی نظریں

ستمبر 10, 2026

گلی میں‌ ٹیپ بال سے ٹیسٹ ڈیبیو پر انگلش کپتان کی وکٹ، رضااللہ پر سب کی نظریں

اپنے بڑے بھائی کو ٹیپ بال کے ساتھ گلی میں‌ کرکٹ کھیلتے دیکھنے والے رضااللہ کے بارے میں کس نے سوچا ہوگا کہ وہ ایک دن برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ پر اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کی چوتھی گیند پر انگلش کپتان جو روٹ کو آؤٹ کریں‌گے-

پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے رضا اللہ نے اپنے پہلے اوور کی چوتھی گیند پر انگلینڈ کے کپتان کو ایل بی ڈبلیو کیا تو تماشائیوں اور کمنٹیٹرز کا ردعمل حیرت سے لبریز تھا-

رضا اللہ کی پہلی تین گیندیں‌ انگلش کپتان نے روک دی تھیں اور بولر کی رفتار 89 میل فی گھنٹہ سے اوپر تھی-

رضا اللہ پانچ اپریل 2005 کو مردان میں پیدا ہوئے، ان کی عمر 21 برس ہے اور وہ دائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے رضا اللہ کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ اپنے کرکٹ کے سفر کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

رضا اللہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ گلیوں میں ٹیپ بال سے کھیلا کرتے تھے۔ البتہ کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں انھیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

’ایک دفعہ انڈر 19 کھیلا، ٹرائلز دیے تو میرا نام نہیں آیا۔‘

رضا اللہ بتاتے ہیں‌ وہ ضلع اور ریجن کی سطح پر کھیلتے ہوئے مسلسل محنت کرتے رہے۔ ’2023 میں پھر انڈر 19 کھیلا، اس میں ڈسٹرکٹ کی سطح پر کھیلا، پھر ریجن کی سطح پر کھیلا اور پرفارم کیا۔ 2026 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔‘

مسلسل پانچویں‌ ٹیسٹ اننگز میں‌ 200 رنز تک نہ پہنچنے والی پاکستان کی بیٹنگ لائن اور 133 پر پویلین لوٹ جانے والی ٹیم کے میچ میں‌ کسی کو دلچسپی نہ رہی تھی مگر رضااللہ کے پہلے اوور کے بعد ساری نظریں اُن پر رہیں-
اور پھر انہوں‌ نے اوپنر ایمیلیو گے کو بھی آؤٹ کیا اور یوں اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں اب تک دو وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ انگلش ٹیم کی ابھی چھ وکٹیں‌ باقی ہیں-

رضا اللہ کی ٹیسٹ ٹیم میں آمد بھی غیر معمولی حالات میں ہوئی۔ وہ ان نئے کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھیں آخری ٹیسٹ کے لیے سکواڈ میں شامل کیا گیا۔

پہلے دو میچز میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیریز کے دوران ہی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تھیں، کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گُل کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا اور کئی کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔

اس وقت رضا اللہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں‌ سب سے زیادہ رفتار کے ساتھ گیند کرانے والے بولر ہیں- محمد عباس اپنی بہترین لائن و لینتھ کے لیے جانے جاتے ہیں مگر انگلش پچز پر وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کی یاد رضا اللہ ہی دلا رہے ہیں-

رضا اللہ کی فرسٹ کلاس کرکٹ

رضا اللہ نے 8 فرسٹ کلاس میچوں میں 30 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ان کی بولنگ اوسط 20.86 رہی ہے۔ یعنی وہ اوسطاً تقریباً 21 رنز دینے کے بعد ایک وکٹ حاصل کرتے ہیں۔

انھوں نے تین مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں بھی حاصل کیں اور ان کی بہترین بولنگ 37 رنز کے عوض پانچ وکٹیں رہی۔

بولنگ کے ساتھ ساتھ رضا اللہ نے بیٹنگ میں بھی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ کرک انفو کے مطابق انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 333 رنز بنا رکھے ہیں جن میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔

رضا اللہ نے نو ون ڈے میچز کھیلے ہیں اور ان میں سات وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ سات ٹی20 مقابلوں میں بھی ان کے نام سات وکٹیں ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے