کیمیائی حملے میں 35 جاں بحق
شام میں مبینہ کیمیائی حملے میں 35 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آْزیرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ حملہ شام کے شمال مغربی علاقے خان شیخون میں کیا گیا ہے جس کی ذمہ دار شامی حکومت یا روسی ہیں ۔ حملے کے بعد لوگوں کی سانسیں رکنے لگیں ۔ بعض ویب سائٹس پر تصاویر بھی شائع ہوئی جن سے معلوم ہوتا تھا کہ کئی افراد کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد شہریوں کی ہے جن میں سے کم از کم نو بچے بھی شامل ہیں۔ حکومت مخالف ادارے ادلیب میڈیا سینٹر نے تصاویر جاری کی ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کا علاج ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ان تصاویر میں سات بعوں کی لاشیں بھی نظر آ رہی ہیں۔ لیکن ان تصاویر کی تصدیق نہیں کی جاسکی ۔ شامی حکومت نے مسلسل اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ اور تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار کی پچھلے سال اکتوبر میں تحقیق کے بعد کہا تھا کہ شامی حکومت 2014 سے 2015 کے درمیان کلورین کو بطور ہتھیار کم از کم تین دفعہ استعمال کیا تھا۔

