ٹرمپ کی میکسیکو والوں کو دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میکسیکو والے اپنے لوگوں کو یہاں آنے سے نہیں روک رہے اس لیے ان کے ساتھ ملنے والی سرحد کو بند کرنا مناسب ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ ’میکسیکو فوری طور پر اپنے غیرقانونی تارکین وطن کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکے۔‘
صدر ٹرمپ کی اس دھمکی پر میکسیکو نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم دھمکیوں کی بنیاد پر کام نہیں کرتے۔‘
میکسیکن وزیر خارجہ مارسیلو ابرارد نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میکسیکو امریکہ کے لیے عظیم ہمسایہ ہے ۔ کروڑوں امریکی ایسے ہیں جنہوں نے میکسیکو کی شہریت حاصل کر رکھی ہے ۔ وزیر خارجہ نے لکھا کہ ’ہم ان کے لیے وہ بہترین ہمسائے ہیں جو کوئی ہو سکتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’اس بات کے بہت امکانات ہیں کہ میں اگلے ہفتے سرحد مکمل طور پر یا اس کا ایک بڑا حصہ بند کردوں اور یہ میرے لیے بالکل مناسب ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میکسیکو کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ ’لوگوں کو یہاں آنے سے روک سکیں مگر وہ ایسا نہیں کرتے۔‘ امریکی صدر نے میکسیکو کے بارے میں لکھا کہ ’امریکہ ان پر بہت سارا پیسہ ضائع کر دیتا ہے خاص طور پر اگر اس میں منشیات کی سمگلنگ جیسے معاملات کو بھی شامل کیا جائے، اس لیے سرحد کی بندش ایک اچھا اقدام ہوگا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل میں میکسیکن صدر لوپیز ایک خطاب میں کہا ہے کہ ’ ہم امن اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت سے لڑنا نہیں چاہتے۔
انھوں نے تارکین وطن کے معاملے کو ایک ’انسانی حق‘ قرار دیا اور کہا کہ ’وسطی امریکہ میں لوگوں کے پاس کوئی راستہ نہیں اس لیے وہ روزی کمانے کے لیے دوسری جگہوں پر جاتے ہیں۔‘

