مشرف کو آخری موقع دیتے ہیں، سپریم کورٹ
رضوان عارف
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اپنے دفاع کے لیے خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونے کا آخری موقع دیا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ سنگین غداری کیس میں اگر ملزم دو مئی کو پیش نہ ہوئے تو اس کے تمام حقوق ختم ہو جائیں گے ۔
اس سے قبل چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا سنگین غداری میں ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت نے خود کو بند گلی میں لے جا کر یرغمال بنا لیا ہے ۔
انہوں نے یہ بات پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے خصوصی عدالت کا وہ حکم نامہ دکھانے کے بعد کی جس میں کہا گیا ہے کہ ’سنگین غداری کے مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کی غیر حاضری میں ٹرائل نہیں کیا جا سکتا۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ خصوصی عدالت کے ’اس حکم نامے کو وفاقی حکومت نے کہیں چیلنج نہیں کیا، یہ جولائی سنہ 2016 کا آرڈر ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر یہ مقدمہ شروع کیا گیا اور اب خصوصی عدالت کا یہ آرڈر ہے تو قانونی صورتحال کیا ہوگی، اس پر سوچنے کے لیے آدھے گھنٹے کا وقفہ کرتے ہیں ۔
عدالت نے وقفے کے بعد مختصر حکم سناتے ہوئے قرار دیا کہ دو مئی کو مشرف عدالت میں نہیں آتے تو ان کے تمام حقوق قانوناً ختم ہوجائیں گے، ایسی صورت میں ٹرائل کورٹ استعاثہ کے دلائل سن کر حتمی حکم جاری کرے۔
عدالت کے حکم کے مطابق جو ملزم غیر حاضر ہوجائے اس کے حقوق معطل ہوجاتے ہیں، دفعہ 342 ملزم کو اپنے دفاع کا موقع فراہم کرتی ہے ۔
پیر کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویزمشرف سنگین غداری کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کی ۔
درخواست گزاروں، استغاثہ اور پرویز مشرف کے وکیل کو سننے کے بعد عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ
سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ ملزم کی عدم حاضری کی صورت میں خصوصی عدالت استعاثہ کے دلائل سننے کے بعد میرٹ پر اپنا حتمی فیصلہ دے ۔
پیر کو سماعت کے آغاز پر سابق فوجی صدر کے وکیل سلمان صفدر قانون کے مطابق ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین میں غیر حاضری کے ٹرائل کی گنجائش نہیں مگر اس کیس میں ملزم پہلے عدالت میں حاضر ہوتارہا ہے، اس پر فردجرم بھی عائد کی جا چکی ہے ۔
پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے خصوصی عدالت کے سامنے مؤکل کا مؤقف پیش کیا ہے جس کے بعد سماعت دو مئی تک ملتوی کی گئی ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ‘سنگین غداری ملک کا سب سے بڑا جرم ہے، اگر دو مئی کو ملزم کی جانب سے کسی اور ہسپتال کا سرٹیفیکیٹ آ گیا تو کیا ہوگا؟سپریم کورٹ نے یہ مقدمہ چلانے کی ہدایت کی تھی اس لیے ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔’
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ‘یہ مقدمہ وفاقی حکومت نے شروع کیا، اسی نے رعایت دیتے ہوئے کسی مرحلے پر ملزم کو گرفتار نہ کیا، اگر ثبوت موجود تھے تو ملزم کو بیرون ملک کیوں جانے دیا۔’
چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ کیا کسی ملزم کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ٹرائل کے نتیجے کو خود کنٹرول کرے؟۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘پہلے ملزم خود جان بوجھ کر حاضر نہ ہو اور بعد میں کہے کہ اس کی عدم موجودگی میں کیس چلا کر فیصلہ سنایا گیا جو آئین کے مطابق نہیں۔’
درخواست گزار توفیق آصف نے کہا کہ مشرف ٹی وی انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ سارے لوگ ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد اب باہر نکلنے کا کیا راستہ ہے؟
چیف جسٹس آصف کھوسہ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بنچ نے مشاورت کے لیے نصف گھنٹہ وقفہ کیا ۔

