اصغر خان کیس بند نہیں ہوگا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے نوے کی دہائی میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے افسران کی سیاست دانوں میں رقم تقسیم کرنے کے مشہور مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے ضمنی رپورٹ طلب کی ہے ۔
عدالت نے کہا ہے کہ بینک اکاؤنٹس کون چلا رہا تھا اس کی نشاندہی کریں ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی نشاندھی کریں کہ کون سا ریکارڈ موجود نہیں ۔
منگل کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے پیسے لینے والوں سے متعلق شواہد یا شکوک سے آگاہ کرے اور رپورٹ میں بتایا جائے کہ جو ریکارڈ ملا نہیں وہ کس کے پاس ہونا چاہیے ۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ رقم لینے سے انکار کرنے والوں کا نام بھی رپورٹ میں شامل کیا جائے۔
وزارت دفاع کی طرف سے ڈائریکٹر لیگل بریگیڈیئر فلک ناز عدالت میں پیش ہوئے اور بتاتا کہ ہم نے 16 مارچ کو رپورٹ جمع کروادی تھی ۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ کی رپورٹ ریکارڈ پر موجود نہیں دوبارہ جمع کروائیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ رقم لینے والوں کا پتا چل جائے گا ۔
جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے جس راستے پر لے کر جانا چاہتی ہے اس راستے پر نہیں جائیں گے، ہم کیس بند کرنے نہیں جارہے ۔
درخواست گزار اصغر خان کے ورثا کے وکیل سلمان راجا نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اپنے رول کو تسلیم کیا ہوا ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے ۔
جسٹس عظمت نے کہا کہ ہم مرحلہ وار اس کیس کو لے کر چلیں گے اور نظر رکھنی ہے جہاں پہنچنا ہے ۔
سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ۔

