ہتھکڑی لگانا شریعت کے خلاف ہے
پاکستان میں اسلامی قوانین کی تشریح کرنے والی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ احتساب کے قومی ادارے نیب کی جانب سے ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانا شریعت کے خلاف ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ ‘جرم ثابت ہونے سے قبل کسی بھی شخص کو ہتھکڑیاں لگا کر ہتک کرنا انسانیت کی تکریم کے منافی ہے۔’
انہوں نے کہا کہ یہ شریعت اور پاکستان کے آئین و قانون کے بھی خلاف ہے۔
چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ نیب آرڈی ننس کو جانچنے کے لیے جسٹس ریٹائرڈ رضا خان کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے۔ ‘یہ کمیٹی جائزہ لے گی کہ نیب قانون کی کون سی شقیں شریعت کے خلاف ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ آئین میں طے ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔
چیئرمین قبلہ ایاز نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اجلاس میں عورت مارچ پر شدید تشویش کا اظہار کیاہے۔ ‘اجلاس نے عورت مارچ میں لگائے گئے نعروں اور بینرز پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔’
اجلاس میں منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ حالات مذمتی اور جذباتی تقریروں سے نہیں بدلے جا سکتے بلکہ وجوہات اور درست تشخیص کے بعد ہی اس کا مؤثر علاج ممکن ہے۔’
خیال رہے کہ پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب کے حکام نے گذشتہ برس اکتوبر میں پنجاب یونیورسٹی وائس چانسلر مجاہد کامران اور تین پروفیسرز کو غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا تھا جس پر سخت عوامی ردعمل سامنے آیا تھا ۔
گذشتہ برس دسمبر میں سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے سابق چیف ایگزیکٹو پروفیسر میاں جاوید کی نیب حراست میں موت واقع ہونے کے بعد ان کی نعش کی ہتھکڑی لگی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ۔

