متفرق خبریں

’ٹی وی کے دفاعی تجزیہ کار بے روزگار‘

اپریل 6, 2019

’ٹی وی کے دفاعی تجزیہ کار بے روزگار‘

پاکستان میں نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نگرانی کرنے والے ادارے پیمرا نے ایک ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوز چینلز کے ٹاک شو میں صرف انہی ریٹائرڈ فوجیوں کو دفاعی تجزیہ کار کے طور پر بلایا جائے جن کی منظوری یا کلیئرنس فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دے رکھی ہو ۔

پیمرا کے جاری کردہ ہدایت نامے میں ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹرز کو مخاطب کیا گیا ہے۔

پیمرا کی میڈیا کو نئی ہدایات کے مطابق ’یہ بات متعلقہ ادارے نے سنجیدگی سے دیکھی ہے کہ ٹی وی چینلز کسی بھی ریٹائر فوجی افسر کوندفاعی تجزیہ کار بنا کر اپنے پروگراموں میں متعارف کراتے ہیں جو دفاع اور دیگر امور پر گفتگو کرتے ہیں۔‘

پیمرا کے بیان میں لکھا گیا ہے کہ ’چونکہ ریٹائر افسر تازہ ترین سیکیورٹی معاملات سے پوری طرح باخبر نہیں ہوتے تو وہ گفتگو کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں کُود جاتے ہیں۔‘ جو غیر ضروری ہے ۔

ہدایت نامے کے مطابق ٹی وی پروگرام میں بیٹھنے کے لئے پہلے آئی ایس پی آر سے کلیئرنس لینے کا پابند ہوگا۔

پیمرا کے جاری کردہ ٹی وی چینلز سے کہا گیا ہے کہ ’اس کی سختی سے پابندی ہونا چاہیے۔‘


ہدایت نامے کے مطابق اگر ریٹائر فوجی دفاعی امور سے ہٹ کر پروگراموں میں گفتگو کے لیے شامل ہوں تو ان کے نام کے ساتھ صرف تجزیہ کار لکھا جائے۔

سوشل میڈیا پرپیمرا کے اس خط پر دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں ۔ ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’انگریزی بتاتی ہے کہ یہ خط بھی کسی ریٹائرڈ دفاعی تجزیہ کار نے ہی لکھا ہے۔‘

اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافیوں کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت میں پیمرا کو مکمل طور پر ریٹائرڈ فوجیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔

فیس بک پر ایک صارف ایم حامد نے لکھا ہے کہ ’اس طرح تو بہت سے دفاعی تجزیہ کار بے روزگار ہو جائیں گے اور انڈیا کے آئندہ حملے کی صورت میں اپنے ساتھ بم باندھ کر ٹی وی پروگراموں میں جانے کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے