سوڈانی مظاہرین فوجی ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے
افریقی ملک سوڈان میں صدر عمر البشیر کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین دارالحکومت خرطوم کے فوجی مرکز کے سامنے پہنچے ہیں ۔
صدارتی محل بھی دارالحکومت میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے قریب ہی واقع ہے ۔
مظاہرین پہلی بار فوجی ہیڈ کوارٹر اور صدارتی محل کے اتنے قریب پہنچے ہیں ۔ سیکورٹی فورسز نے مشتعل لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں ۔
مظاہرین ملک میں اس بغاوت کی ۳۴ ویں سالگرہ منا رہے ہیں جس میں سابق صدر جعفر نمیری کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا ۔
تاحال ان مظاہروں میں فوج نے مداخلت نہیں کی ۔ مظاہرین فوجی ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا دے کر بیٹھے رہے تاکہ صدر عمر البشیر کی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے ۔
سوڈان کے وزیر اطلاعات نے فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔‘
مظاہرے ابتدائی طور پر مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے تاہم اب مظاہرین صدر عمر البشیر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
صدر عمر البشیر کے خلاف حالیہ مظاہرے گذشتہ سال دسمبر میں شروع ہوئے تھے جو ۳۰ سال سے اقتدار میں ہیں ۔

