متفرق خبریں

مولوی نہیں اب جدید سائنس چاند دیکھے گی

مئی 5, 2019

مولوی نہیں اب جدید سائنس چاند دیکھے گی

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ملک چلانے کا فیصلہ مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ آگے کا سفر  مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ چاند دیکھنے کا تنازع ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گا اور سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت آئندہ دس سال کا قمری کیلنڈر جاری کرنے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ 


 ٹوئٹر پر جاری کیے ویڈیو بیان میں فواد چودھری نے کہا کہ’وزارت میں سپارکو، محکمہ موسمیات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین پر مشتمل پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ یہ کمیٹی اگلے دس سال کے چاند، عیدین ، محرم اور رمضان سمیت دیگر اہم قمری دنوں کی تاریخ کا کیلنڈر جاری کرے گی۔ اس سے ہر سال پیدا ہونے والا تنازع ختم ہو گا۔’

ادھر رمضان کے چاند دیکھنے کے لیے پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں ہو رہا ہے جہاں کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ فواد چودھری رویت ہلال کے نظام سے نابلد ہیں۔ 

نجی ٹی وی کے مطابق مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ کمیٹی کا اجلاس محکمہ موسمیات میں ہوتا ہے۔’فواد چوھری چاہیں تو ان کو سوسال کا کیلنڈر بھی بنا کر دے دیں گے، وہ جلسہ بھی کر لیں۔’

سوشل میڈیا پر فواد چودھری سے ان کے اس بیان پر سوال پوچھا گیا کہ ‘آپ کے خیال میں کیا مولوی حضرات اس کو تسلیم کر لیں گے؟ انہوں نے ٹویٹ کر کے جواب دیا کہ ‘یہ فیصلہ کہ ملک کیسے چلنا ہے مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس رو سے پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علما تو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور جناح صاحب کو کافر اعظم کہتے تھے۔’

فواد چوھری  نے سوال پوچھنے والے اکاؤنٹ کو جواب دیا ہے کہ’آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے۔’

وفاقی وزیرنے ویڈیو بیان میں مزید کہا  کہ ‘جب جدید ذرائع موجود ہیں اور ہم ایک حتمی تاریخ کا تعین کر سکتے ہیں تو پھر یہ سوال ہے کہ ہم سائنس کے جدید ذرائع کو استعمال کیوں نہ کریں ۔“

ان کا کہنا تھاکہ ملک میں چاند دیکھنے کے لیے قائم رویت ہلال کمیٹی خود بھی دوربین سے دیکھ رہی ہوتی ہے ۔ ‘جب دوربین کی پرانی ٹیکنالوجی سے ہی دیکھنا ہے تو پھر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں کیا حرج ہے۔ ‘ 

وفاقی وزیر کے مطابق تشکیل دی گئی کمیٹی اسی ہفتے سے کام شروع کر دے گی ۔’ہم یہ کیلنڈر بنا کر کابینہ کے سامنے رکھیں گے ۔ کابینہ کی مرضی ہے کہ وہ اس کیلنڈر کو پاکستان کے لیے منظور یا مسترد کرے۔’


مفتی منیب الرحمان کے مطابق کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کھلے آسمان میں چاند نظر نہ آتا ہو ۔

مفتی منیب نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ اپنے وزرا کو دینی معاملات میں غیر ضروری بیانات دینے سے روکیں ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے