شبر زیدی کا نام ای سی ایل سے کیسے نکالا گیا
پاکستان کے وفاقی مالیاتی بورڈ ایف بی آر کے نئے چیئرمین شبر زیدی کا نام ملک سے باہر جانے کی پابندی کے شکار افراد کی فہرست میں شامل تھا مگر گذشتہ برس کے اختتام پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بغیر ایجنڈے پر لائے وزیراعظم عمران خان نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی ہدایت کی ۔
عمران خان کے پاس اس وقت وفاقی وزارت داخلہ کا چارج بھی تھا اور شبر زیدی کا نام قومی احتساب بیورو نیب کی درخواست پر ایگزٹ کنٹرول فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
اے ایف فرگوسن فرم کے اہم پارٹنر شبر زیدی کا نام کے اے ایس بی بنک کو اسلامی بنک میں ضم کرنے کے سکینڈل میں ملزم کے طور پر سامنے آیا تھا ۔
نیب نے الزام عائد کیا تھا کہ شبر زیدی بھی ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے ان دو بنکوں کے انضمام کے دوران غیر شفاف طریقے سے ڈیل کی ۔
نیب کے مطابق بنکوں کے اس غیر شفاف انضام کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے علاوہ کسب بنک کے سپانسرز کو بھی خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

قومی احتساب بیورو نے گذشتہ سال کے اختتام پر سٹیٹ بنک کے سابق گورنر اشرف وتھرا، بنک اسلامی کے صدر حسن عزیز بلگرامی، اے ایف فرگوسن کے شبر زیدی، حسن ناظر اور عاصم سلیم کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی تھی ۔
22دسمبر کو کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی تھی کہ شبر زیدی کا نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکالا جائے ۔ کابینہ کے اس اجلاس کے ایجنڈے پر یہ آئٹم شامل نہیں تھا اور اس کو دیگر آئٹمز میں سے سامنے لا کر یہ ہدایات جاری کی گئیں۔
خیال رہے کہ شبر زیدی کی فرم اے ایف فرگوسن نے عمران خان کو ان کے خلاف سپریم کورٹ میں نااہلی کے مقدمے میں خدمات فراہم کی تھیں ۔ اس مقدمے میں عدالت عظمی نے عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کی گئی مسلم لیگی رہنما حنیف عباسی کی درخواست مسترد کر دی تھی ۔
شبر زیدی کی فرم نے تحریک انصاف کے ایک اورسینئر رہنما کو بھی ایڈوائز دی تھی ۔
پانچ ملزمان میں سے صرف شبر زیدی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی ہدایت جاری کرنے کے بعد مفادات کے ٹکراؤکے سوالات اٹھائے گئے تھے ۔
اس وقت وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کیونکہ شبر زیدی کی فرم آصف زرداری اور نواز شریف کو بھی خدمات فراہم کر چکی ہے اور ان کا نام کسی کی غلطی سے ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔

