سات ججوں کے پلاٹوں والے سیکٹر کا مقدمہ
پاکستان کی سپریم کورٹ کے سات ججوں نے اسلام آباد کے نئے بننے والے سیکٹرز ایف 14 اور ایف 15 میں پلاٹ لینے کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں ۔
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر ان تمام سرکاری افسران اور ملازمین کی فہرست آویزاں کی گئی ہے جنہوں نے ان دونوں سیکٹرز میں پلاٹ کے حصول کے لیے درخواستیں اور رقم جمع کرائی ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی ہائیکورٹ نے سنہ 2017 میں دیے گئے ایک فیصلے کے تحت ان دونوں سیکٹرز میں فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی سکیم کو قانون کے خلاف قرار دیا تھا ۔ ہائیکورٹ نے وفاقی ترقیاتی ادارے کو حکم دے رکھا ہے کہ دونوں سیکٹروں کی زمین اپنی تحویل میں لے کر ڈویلپ کرے اور منصفانہ طور پر ہر کسی کو پلاٹ کے حصول کے لیے درخواست دینے کا موقع دے ۔
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے مگر گذشتہ سال دسمبر میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے اس اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرنے کے باوجود تاحال اس کو سنا نہیں جا سکے ۔
انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون کے رپورٹر حسنات ملک کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے چھ جج صاحبان اس اپیل کی سماعت کا حصہ بننے سے معذرت کر چکے ہیں اور اس کی وجہ ان کا ان سیکٹرز میں پلاٹ کے حصول کے لیے درخواست دینا ہے ۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 15 مئی کو یہ اپیل جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی ہے ۔ بنچ میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد میں زمین کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے رئیل سٹیٹ ڈویپلر کا ماننا ہے کہ نئے بنائے جانے والے دونوں سیکٹرز انتہائی مہنگے ہوں گے اس لیے ہر پلاٹ کے حصول کے لیے سخت مقابلہ ہو سکتا ہے اگر ہر ایک کو درخواست دینے کا موقع ملے ۔
ایک اندازے کے مطابق نئے بنائے جانے والے ایک سیکٹر کی زمین کی قیمت 400 ارب روپے تک ہو سکتی ہے اور یہ رقم وفاقی ترقیاتی ادارے کے پاس جائے گی ۔

