وزیر قانون اور مستعفی اٹارنی جنرل میں جنگ
پاکستان کے وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ انور منصور خان نے سپریم کورٹ اور اس کے ججوں کی عزت و خودمختاری پر حملہ کیا اور ان کا بیان حکومت کے علم میں نہیں تھا جبکہ اٹارنی جنرل نے مستعفی ہونے کے بعد الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عدالت میں جو کچھ کہا اس میں وزیراعظم کی منظوری شامل تھی۔
انور منصور خان نے کہا کہ ان کے ججوں پر اعتراض کے پیچھے فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کی آشیرباد تھی اور دونوں نے ان کو شاباش بھی دی تھی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے تحریری شواہد اور ناکامی کی صورت میں معافی نامہ جمع کرانے کے لیے کہا تھا۔
انور منصور خان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے وقت لکھا تھا کہ وہ پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر قدم اٹھا رہے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے ان کے عدالت میں دیے گئے بیان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی۔

