جسٹس فائز کا تحریری جواب
جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف مقدمے میں تحریری معروضات جمع کراتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سمیت کئی سیاست دانوں کی آف شور کمپنیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔
صدارتی ریفرنس کے خلاف کیس میں جمع کرائے گئے تحریری معروضات میں کہا گیا ہے کہ کئی نمایاں شخصیات نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے غیر ملکی جائیداد کو چھپاپا، موجودہ وزیراعظم بھی ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں نے برطانیہ کی جائیداد کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے کبھی نہیں چھپایا،برطانیہ کی جائیدادیں اہلیہ اور بچوں نے اپنی نام پر خریدی.جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریری معروضات میں ایسیٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھا دیے. تحریری معروضات میں کہا گیا ہے کہ اثاثہ ریکوری یونٹ قانونی باڈی نہیں،اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا کسی قانون، وفاقی حکومت کے رولز، سرکاری گزٹ میں ذکر نہیں،فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں میری ذات پر الزامات لگائے گئے، وہ الزامات غلط ثابت ہونے پر توہین عدالت کی کاروائی ہو سکتی ہے، فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی تیاری سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان لا علم نہیں،حکومت نے میری فیملی کی مخبری کے لیے برطانیہ میں نجی کمپنی کی خدمات حاصل کیں۔

