ماسک پر جسٹس قاضی فائز اور وکیل میں مکالمہ
سپریم کورٹ میں احتیاطی تدابیر نہ اپنانے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوجوان وکیل سے دلچسپ مکالمہ کیا ہے۔ قاضی فائز عیسی نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اللہ کا حکم ہے اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے قتل نہ کرو۔
جہانزیب عباسی، صحافی ۔ اسلام آباد
بدھ کو سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران احتیاطی تدابیر نہ اپنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ایک وکیل رضوان ستی کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وکیل صاحب یہ ماسک لٹکانے کے لیے نہیں ناک اور منہ کو ڈھانپنے کے لیے ہے، فرمانِ الٰہی ہے اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے قتل نہ کرو، آپ مجھے بتائیں ماسک کیوں پہنا جاتا ہے۔
وکیل نے کہا کہ سر اس لیے پہنا جاتا ہے کہ وائرس سے بچا جا سکے۔
جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ صرف خود نہیں بچنا بلکہ ساتھ والوں کو خود سے بھی بچانا ہوتا ہے، میں مسلسل بات کر رہا ہوں، ماسک سے مجھے بھی کافی مشکل ہو رہی ہے، ماسک تو ہر صورت پہننا ہے، کیا کریں مجبوری ہے، یہ دلیل غلط ہے کہ مجھے کوئی فکر نہیں ہے، اگر آپ کو اپنی فکر نہیں ہے تو دوسروں کا کیا قصور ہے۔

