پاکستان24 متفرق خبریں

’ججز کی جاسوسی پر حکومت ختم کی گئی‘

جون 11, 2020

’ججز کی جاسوسی پر حکومت ختم کی گئی‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت پر واضح کیا ہے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی جاسوسی پر سنہ 1996 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کو تحلیل کردیا تھا۔ جسٹس مقبول باقر نے وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا یہ بات ذہن نشین رکھیں سپریم کورٹ نے ججز کی جاسوسی پر ایک منتخب حکومت کو تحلیل کر دیا تھا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم کو کم عدالتی سوالات پر بھی جواب دینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

جمعرات کو سماعت میں گذشتہ عدالتی سماعتوں کی بانسبت جج صاحبان کی طرف سے کم سوالات پوچھے گئے۔ جسٹس منصور علی شاہ او ر جسٹس یحییٰ آفریدی نے مقدمے کی سماعت کے دوران حکومتی وکیل فروغ نسیم سے ایک سوال بھی نہ پوچھا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ آئین پاکستان میں جج کے مس کنڈکٹ کی تعریف نہیں کی گئی۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ جب مس کنڈکٹ کی تعریف آئین میں نہیں تو ماتحت قانون کی تعریف پر انحصار کیسے کیا جاسکتا ہے۔ فروغ نسیم ابھی سوال کا جواب دینے کے لیے کچھ بولنے ہی والے تھے کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ سوال نوٹ کر لیں اور دلائل جاری رکھیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل جسٹس منیب اختر کا جواب دیے بغیر دلائل دیتے رہے۔

وفاق کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا کہ جج ان کی اہلیہ اور زیر کفالت بچے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کی اس دلیل کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے کیا تعلق ہے۔ حکومتی وکیل نے کہا اس مقدمے میں بیوی بچوں کے زیر کفالت نہ ہونے کا دفاع لیا گیا ہے۔

سابق وزیر قانو ن نے دلائل میں مزید کہا نواز شریف نے بھی پاناما کیس میں کہا تھا اثاثوں سے متعلق مجھ سے نہ پوچھیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا آپ پاناما کیس اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کا موازنہ نہ کریں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا جج صاحب کی بیگم سے کیوں نہیں پوچھا گیا اثاثے کہاں سے آئے، بیگم سے جواب نہ ملتا تو پھر جج سے پوچھا جاتا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا پنشن کی ادائیگی میں جج کی بیوہ پر کفالت یا زیر کفالت کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ چیزوں کو ادھر ادھر نہ لیکر جائیں۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا درخواست گزار پر انکم ٹیکس قانون کی شق 116 کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا، ہمیں اس بارے میں جواب دیں، ہم نے کافی سوالات پوچھے ہیں۔

حکومتی وکیل نے ایک مرتبہ پھر وعدہ کیا کہ وہ بھرپور معاونت کریں گے،اگر یہی رفتار رہی تو دو دن میں دلائل مکمل کر لونگا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ نے میاں بیوی کے درمیان زیر کفالت سے متعلق سوال نہ کرنے بارے کسی عدالتی فیصلے کا حوالہ نہیں دیا،ہمیں وہ عدالتی فیصلہ دکھائیں جس میں میاں بیوی کے درمیان زیر کفالت ہونے کے نقطے کو ختم کیا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ریفرنس میں بدنیتی کا سوال اٹھایا گیا ہے،شواہد کیسے اکھٹے کیے گئے یہ سوال بھی اہم ہے، غیر قانونی طریقے سے شواہد اکھٹے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، اعلیٰ عدلیہ کے جج کی جاسوسی کرنے کا سوال بھی موجود ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے سابق وزیر قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا یہ بات ذہن نشین کر لیں سپریم کورٹ نے ججز کی جاسوسی پر ایک منتخب حکومت کو تحلیل کر دیا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے