ٹائیگر فورس کے بتانے پر ایکشن لیں گے: وزیراعظم
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب لاک ڈاون نہیں کریں گے بلکہ مخصوص علاقوں میں ٹائیگر فورس کی نشاندہی پر کارروائی کریں گے۔
لاہور میں وزیراعلی عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب سب کچھ بند کر دینا ہے جو سنگا پور اور نیوزی لینڈ جیسے ملکوں تو آسان ہے اور اس سے وائرس کا پھیلاو رک جاتا ہے لیکن ہماری جہاں ہم جیسی آبادی 25 فیصد غربت سے نیچے ہیں وہاں ممکن نہیں، ہندوستان اور بنگلہ دیش جیسے ملک لاک ڈاؤن سے رک جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ممالک کے اندر صرف سمارٹ لاک ڈاون ہوتا ہے۔ معیشت چلتی رہے اور کورونا کا پھیلاو بھی روکا جائے۔ دونوں کو اکھٹا چلانا مشکل ہے۔ نیویارک کا مئیر اگر کہ رہا ہے دیوالیہ نکل گیا ہے ۔ ہمیں بجٹ بنانے میں مشکل ہوئی۔ جتنی تین مہینے میں ہلاکتیں ہوئیں وہاں ایک دن میں اتنی ہوئی۔
”بجٹ بنانے میں مشکل ہوئی آمدنی نیچے چلی گئی۔ میں نے ہمیشہ کہا کہ احتیاط نہیں کریں گے تو مشکل وقت آئے گا۔ عوام ذمہ داری لیں۔ جو شرائط بتائی ہوئی ہیں اس پر عمل نہیں کریں گے تو بہت نقصان اٹھانا پڑے گی۔ ہمارے ہسپتالوں میں کیپسٹی نہیں۔ ابھی ہسپتالوں میں پریشر پڑ چکا ہے۔“
عمران خان نے کہا کہ پہلے عوام پر چھوڑا ہوا تھا لیکن لوگوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔ لوگ بیماری پر یقین نہیں کر رہے۔ ”آج پنجاب کی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اب ہم پورا لاک ڈاون تو نہیں کریں گے۔ لیکن سیلیکٹو لاک ڈاون کریں گے، اب ہم نے سختی کرنی ہے۔“
وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ کیا کہ ایس او پی پر عمل درآمد کروائیں گے۔ اب کہیں ماسک کے علاوہ کوئی نہیں جا سکتا۔ ٹائیگر فورس ہمیں بتائے گی جہاں ہم نے ایکشن لینا ہے۔ ہمارے پاس اتنا مشکل وقت آ چکا ہے۔ جہاں لاک ڈاون کریں گے وہاں سب بند ہو جائے گا۔ اب سے آگے مختلف اقدانات کرنا پڑیں گے۔

