سنتھیا نے متنازع ٹویٹ سے انکار نہیں کیا: عدالت
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو سائبر کرائم قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جہانگیر اعوان نے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سینتھیا رچی نے سوشل میڈیا پر بے نظیر بھٹو سے متعلق اپنے ٹویٹ سے انکار نہیں کیا، انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت جرم کا ارتکاب ہوا ہے، ایف آئی اے قانون کے مطابق تفتیش کرے، درخواست منظور کی جاتی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ ایف آئی اے انکوائری کرے اور شواہد ملنے پر ایف آئی آر درج کرے۔
انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت متاثرہ شخص مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔ بے نظیر بھٹو پاکستان کی سابق وزیراعظم اور لاکھوں لوگوں کی قائد تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے چاہنے والوں میں سے کسی کو بھی متاثرہ فریقین کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کی تشریح کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کا ضلعی صدر بھی متاثرہ فریق ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید ہوئے 12 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ سینتھیا رچی نے اتنے سالوں تک کسی متعلقہ فورم یا میڈیا پر ان الزامات کا اظہار نہیں کیا۔ شہادت کے 12 سالوں سے زائد عرصے بعد شہید قائد کو بدنام کرنے کے لئے الزامات لگانا بادی النظر میں بدنیتی پر مبنی ہے۔
واضح رہے کہ سنتھیا رچی نے پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بارے میں متنازع ٹویٹس کی تھیں جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس، ایف آئی اے اور دیگر حکام کو درخواستیں دی گئیں۔
حکام کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر پیپلز پارٹی کے رہنما نے عدالت سے مقدمہ درج کرانے کا حکم دینے کے لیے رجوع کیا تھا۔

